.

یمنی سرکاری ذرائع کی الحدیدہ سے حوثیوں کے انخلا کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومتی ذرائع نے اس خبر کی تردید کی ہے جس میں ایران نواز باغی حوثی ملیشیا کے الحدیدہ کی بندرگاہ سے انخلا کی بات کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جمعے کے روز ہونے والے اجلاس میں اقوام متحدہ کی نگراں ٹیم کے سربراہ جنرل پیٹرک کیمرٹ نے فریقین کو ایک یادداشت پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دونوں جانب سے یکم جنوری 2019 بروز منگل الحدیدہ میں فائر بندی اور از سر نو تعیناتی کے طریقہ کار کے حوالے سے تصورات پیش کیے جائیں۔ ذرائع نے بتایا کہ "اجلاس کے دوران یمنی حکومت کی جانب سے جنرل کیمرٹ کو آگاہ کیا گیا کہ کسی بھی یک طرفہ یا جانب دارانہ اقدام کو مسترد کو قبول نہیں کیا جائے گا اور کوئی بھی کیا جانے والا فیصلہ سرکاری طور پر پوری نگراں کمیٹی کا متفقہ فیصلہ ہونا چاہیے"۔

ذرائع نے باور کرایا کہ یمنی حکومت کے وفد نے الحدیدہ کی حوالگی کے اعلان کے حوالے سے ہفتے کے روز سرکاری طور پر اپنا احتجاج اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیا۔ ادھر اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ نے حوثیوں کی جانب سے الحدیدہ کی بندرگاہ کی عدم حوالگی کا اقرار کیا۔

اس سے قبل العربیہ کے نمائندے نے بتایا تھا کہ یمن میں آئینی حکومت کو الحدیدہ کی بندرگاہ سے حوثیوں کے انخلا کا کوئی نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا۔ نمائندے نے باور کرایا کہ حکومت نے الحدیدہ صوبے میں حوثیوں کی از سر نو تعیناتی اور مورچہ بندی کی کارروائیوں کا پتہ چلایا ہے۔

ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار نے کہا تھا کہ حوثی ملیشیا کے عناصر نے الحدیدہ کی بندگاہ سے انخلا شروع کر دیا ہے۔ مذکورہ عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بحر احمر پر پھیلی ہوئی اس بندرگاہ سے حوثیوں کا انخلا مقامی وقت کے مطابق نصف شب کے بعد شروع ہوا۔

الحدث نیوز چینل کے مطابق حوثی ملیشیا نے ہفتے کے روز یمنی فوج کی بھاری مشینریز پر اس وقت فائرنگ کر دی جب وہ الحدیدہ کو صنعاء اور تعز سے ملانے والے ہائی وے کا راستہ کھول رہی تھیں۔

یاد رہے کہ دسمبر کے وسط میں سویڈن میں ہونے والی امن بات چیت میں یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا الحدیدہ میں فائر بندی اور شہر سے مسلح عناصر کے انخلا پر متفق ہو گئے تھے۔