.

الحدیدہ میں از سر نو تعیناتی میں سویڈن معاہدے کا احترام کیا جائے :کمائرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مغربی صوبے الحدیدہ میں جنگ بندی کی نگراںی کرنے والی اقوام متحدہ کی کمیٹی کے سربراہ جنرل پیٹرک کمائرٹ کا کہنا ہے کہ صوبے میں از سر نو تعیناتی صرف اس صورت معتبر ہو گی جب تمام فریق اور اقوام متحدہ اس کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ عمل اسٹاک ہوم میں طے پائے گئے سمجھوتے کے مطابق ہے۔

کمائرٹکا یہ موقف حوثیوں کی جانب سے الحدیدہ بندرگاہ کو مقامی ساحلی پولیس فورس کے حوالے کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ دوسری جانب یمنی حکومت نے اس پیش رفت کی تردید کرتے ہوئے باغی ملیشیا پر اپنے ہمنوا عناصر کو ساحلی پولیس فورس کی وردیاں پہنا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

کمائرٹکے مطابق اعتماد سازی کے اقدامات اور معاہدے پر عمل درامد بیک وقت ہونا چاہیے۔ انہوں نے انسانی امداد پیش کرنے کے لیے الحدیدہ اور صنعاء کے درمیان ہائی وے کو بطور گزر گاہ نہ کھولے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے انسانی امدادی قافلوں کے لیے مرکزی راستے سے بارودی سرنگیں ہٹانے سے انکار کر دیا۔

اس طرح الحدیدہ شہر میں داخلے کے راستے مسلسل دوسرے روز انسانی امداد کے سامنے بند رہے۔ حوثی ملیشیا نے تین فریقی کمائرٹکی جانب سے منظور کیے جانے والے سمجھوتے پر عمل درامد نہیں کیا اور مذکورہ راستہ نہیں کھولا۔ حوثی باغیوں نے الحدیدہ شہر کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں رہائشی علاقوں میں یمنی فوج کے ٹھکانوں پر گولہ باری سے سمجھوتے کی خلاف ورزیاں کیں۔