.

تہران: ایرانی طلبہ کا احتجاج حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی دارالحکومت تہران میں آزاد یونیورسٹی کے طلبہ کا احتجاج شہریوں کی بڑی تعداد کے شامل ہونے کے بعد حکومت مخالف بھرپور مظاہروں کی صورت اختیار کر گیا۔ سوشل میڈیا پر پھیلی وڈیوز کے مطابق مظاہرین نے اس موقع پر "مُلاؤں کی جمہوریہ مُردہ باد" کے نعرے بھی لگائے۔

مظاہروں کا آغاز دارالحکومت کے وسط میں انقلاب اسکوائر سے ہوا۔ مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے یونیورسٹی کی بس الٹنے کے حادثے میں 10 ساتھیوں کی ہلاکت کے سبب آزاد یونیورسٹی کے عہدے داروں بالخصوص یونیورسٹی کے سربراہ علی اکبر ولایتی (سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر) ان سب کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ طلبہ نے یونیورسٹی کی انتظامیہ پر غفلت کا الزام عائد کیا کیوں کہ انہوں نے ٹرانسپورٹ کے پرانے جان لیوا بیڑے کو جدید نہیں بنایا۔

سوشل میڈیا پر جاری وڈیوز میں تہران کی شارع "انقلاب" پر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات نظر آئی تا کہ مظاہرین کو انقلاب اسکوائر پر جمع ہونے سے روکا جا سکے۔

ادھر لندن سے نشر ہونے والے فارسی زبان کے چینل Manoto tv نے ایک وڈیو کلپ دکھایا ہے جس میں متعدد عام شہریوں کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ نظر آ رہی ہے کیوں کہ سکیورٹی اہل کاروں نے مظاہرین میں شامل ایک خاتون کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔