.

صادق لاریجانی : ایران میں موت کی سزاؤں اور کریک ڈاؤن کے "سیاہ ریکارڈ" کی حامل شخصیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سے جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق آملی لاریجانی کو مجلس تشخيص مصلحت نظام کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا تقرر مجلس کے سابق سربراہ آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی کے گزشتہ پیر کے روز انتقال کر جانے کے بعد عمل میں آیا ہے۔ علی خامنہ ای کے مقرب اور ولایت فقیہ کے منصب کے لیے سپریم لیڈر کے ممکنہ جاں نشیں لاریجانی کو جنوری 2018ء میں امریکا نے انسانی حقوق کی پامالیوں اور ایران کے مسلح پروگرام کی حمایت کے الزام میں بلیک لسٹ کر دیا تھا۔

لاریجانی نو برس تک ایرانی شوری نگہبان کے رکن رہے۔ اس کے بعد علی خامنہ ای نے انہیں جوڈیشل کونسل کا چیئرمین مقرر کر دیا۔ لاریجانی نے اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں اور کڑی نگرانی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔

لاریجانی پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے عدالتی مقدمات کے ملزمان سے مالی ضمانتیں جمع کرنے کے لیے 63 خفیہ بینک کھاتے بھی کھولے۔ ان ضمانتوں کی مجموعی رقم سے حاصل ہونے والے منافع کا اندازہ 30 کروڑ ڈالر کے قریب لگایا گیا ہے۔ رواں سال جولائی میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس جانب اشارہ کیا تھا کہ صادق آملی لاریجانی کے ذاتی بینک کھاتے میں عوام کے مال میں غبن سے حاصل 30 کروڑ ڈالر موجود ہیں۔

ایران میں حالیہ مزاحمتی احتجاجی تحریک کے دوران عدلیہ کے سربراہ صادق لاریجانی نے ٹی وی پر نشر ایک بیان میں ملک میں استغاثہ ، سکیورٹی فورسز اور سکیورٹی افسران کو حکم دیا تھا کہ مظاہرین پر قابو پانے کے لیے بزور طاقت مداخلت کر کے ان سے سختی سے نمٹا جائے۔

صادق آملی لاریجانی ایران میں سخت گیر حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لاریجانی اور ان کے تین بھائیوں کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا بڑا اعتماد حاصل ہے۔ لاریجانی 1960 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آیت اللہ مرزا ہاشم آملی ایران کے مذہبی علوم کے مرکز حوزہ میں معلم تھے۔ تاہم رضا شاہ کے دباؤ کے بعد وہ 1931 میں نجف منتقل ہو گئے۔ بعد ازاں تین دہائیاں گزار کر وہ 1961 میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایران کے شہر قم آ گئے۔ ہاشم آملی کے تین بیٹے عراق کے شہر نجف اور دو بیٹے ایران کے شہر قم میں پیدا ہوئے۔

صادق آملی لاریجانی کا چھوٹا بھائی محمد جواد اردشير لاريجانی جوڈیشل کونسل کے معاون کے منصب پر فائز ہے۔ وہ حکومت کی انسانی حقوق کی تنظیم کا سربراہ بھی ہے جس پر انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیمیں الزام عائد کرتی ہیں کہ اس نے ایران میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالا۔ آملی کے بڑے بھائی علی لاریجانی 2008 سے پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں اور آئندہ صدارتی انتخابات میں نامزدگی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آملی کے چوتھے بھائی باقر لاریجانی تہران یونیورسٹی فار میڈیکل سائنسز میں بطور مشیر ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں۔ آملی کا پانچواں بھائی فاضل لاریجانی ایرانی وزارت خارجہ میں بطور سفارت کار کام کر رہا ہے۔ اس پر اپنے بھائی صادق لاریجانی کے ساتھ مل کر بدعنوانی کے الزامات ہیں۔