.

ٹرمپ شام سے امریکی فورسز کے انخلا کا عمل ذہانت کے ساتھ "سُست" کرنے پر تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ داعش تنظیم کو حتمی شکست سے دوچار کرنے کے لیے ،،، شام میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے عمل کو "سُست" کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس امر کی تصدیق ٹرمپ کے مقرب ایک سینیٹر لینڈسی گراہم نے اتوار کے روز کی۔

اتوار کی صبح گراہم نے ٹرمپ کے فیصلے کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم دوپہر میں ارب پٹی ریپبلکن ٹرمپ کے ساتھ ظہرانے پر اکٹھا ہونے کے بعد وہ خاصے "مطمئن" ہو کر وہائٹ ہاؤس سے باہر آئے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "صدر نے اس بات کا مصمم ارادہ کیا ہوا ہے کہ جب ہم شام سے کوچ کریں تو داعش تنظیم کمل طور پر شکست سے دوچار ہو چکی ہو"۔

گراہم نے مزید کہا کہ "صدر اس بات حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ ہمیں مشن کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم امور کو ذہانت کے ساتھ سُست بنائیں گے"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے شمالی شام میں تعینات امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا حکم جاری کیا تھا جن کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے۔ ان میں زیادہ تعداد اسپیشل فورسز کے اہل کاروں کی ہے جو داعش کے خلاف لڑائی کی اور تنظیم سے واپس لیے جانے والے علاقوں میں مقامی فورسز کو تربیت دینے کی غرض سے موجود ہیں۔

امریکی صدر کے سابق مخالف لینڈسی گراہم جو اب ٹرمپ کے مقرب بن چکے ہیں ،،، انہوں نے امریکی نیوز نیٹ ورک "سی این این" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ "میں صدر سے مطالبہ کروں گا کہ وہ اپنے جنرلوں سے ملاقات کریں اور اس فیصلے پر عمل درامد کے طریقہ کار پر نظر ثانی کریں یعنی عمل کو سُست بنائیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ امر اچھے طریقے سے انجام دیا جائے اور یہ کہ داعش تنظیم آئندہ نہیں لوٹے گی"۔

گراہم نے ٹرمپ کے فیصلے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے اسے "ایک بڑی غلطی" قرار دیا تھا۔

امریکی سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ "ہم پر لازم ہے کہ اپنے فوجیوں کو وہاں رہنے دیں۔ اگر ہم اس وقت نکل آئے تو کُردوں کو قتل و غارت کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر ہم نے کُردوں کو چھوڑ دیا اور انہیں قتل عام کا نشانہ بنایا گیا تو مستقبل میں ہماری مدد کون کرے گا؟"۔