.

اسرائیل ایران کے خلاف لڑائی میں عربوں کا اتحادی ہے: نیتن یاہو کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب ممالک داعش اور ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل کو اپنا ایک اہم اتحادی ملک خیال کرتے ہیں۔

انھوں نے برازیل کے دورے کے موقع پر گلوبو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ اس جائزے نے اسرائیل کے عرب دنیا کے ساتھ تعلقات میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے‘‘۔

انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب اسرائیل نے پڑوسی ملک شام میں ایران کے مبیّنہ ٹھکانوں پر فضائی حملے تیز کررکھے ہیں اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کو بھی قبول کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

نیتن یاہو ماضی میں متعدد مرتبہ خبردار کرچکے ہیں کہ ایران اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے جوہری بم تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔انھوں نے 2015ء میں امریکا سمیت چھے بڑی طاقتوں کے ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی بھی مخالفت کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں اس سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔

صہیونی وزیر اعظم نے اس انٹرویو میں مزید کہا کہ ’’ اسرائیل نے از خود ہی سخت گیر اسلام اور متشدد اسلام کے خلاف جنگ میں اپنی فعالیت ظاہر کی تھی خواہ یہ ایران کی قیادت میں ریڈیکل شیعوں کے خلاف جنگ ہو یا القاعدہ اور داعش کی قیادت میں سنی سخت گیروں کے خلاف جنگ ہو‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ بدقسمتی سے ہم فلسطینیوں کے معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں کرسکے ہیں۔ان میں نصف تو پہلے ہی ایران کی بندوق کے سائے تلے ہیں یا ریڈیکل اسلام کے زیر اثر ہیں‘‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کسی ایرانی لیڈر کے ساتھ کبھی امن مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تو انھوں نے یہ جواب دیا :’’ اگر ایران ہماری تباہی کے لیے پُرعزم رہتا ہے تو پھر میرا جواب ’نہیں‘ میں ہے‘‘۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگرا یرانی اصلاحات کے مکمل عمل سے گزریں تو پھر کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔

نیتن یاہو برازیل میں منگل کو نئے اسرائیل نواز صدر جائر بول سونارو کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔اس تقریب میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی شرکت بھی متوقع تھی۔