.

ایران: یونیورسٹی کے چانسلر نے احتجاجی طلباء روند ڈالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں "آزاد سائنس وریسرچ" یونیورسٹی کے طلباء کی جانب سے احتجاج کے موقع پر یونیورسٹی کے چانسلر محمد مہدی تہرانجی نے گذرتے ہوئے طلباء کو روند ڈالا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق طلباء نے یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام کی جانب سے طلباء کو تحفظ فراہم نہ کرنے کے خلاف دھرنا دے رکھا تھا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے چانسلر محمد مھدی تہرانجی دفتر سے باہر نکلے اور راستے میں موجود طلباء کو روندتے ہوئے چلے گئے۔

طلباء نے حکام کی غفلت کےنتیجے میں ایک بس حادثے میں 10 طلباء کی ہلاکت اور 28 کے زخمی ہونے کے واقعے کی تحقیقات نہ کرنے کے خلاف دھرنا دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے چیئرمین اور ایرانی مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب علی اکبر ولایتی اور دیگر عہدیداروں کی برطرفی کا مطالبہ کیا

۔تہرانجی کی جانب سے طلباء کو روندے جانےکے واقعے کے بعد ایرانی پراسیکیوٹر جنرل نےبھی یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ انہوں نے احتجاجی طلباٰء سے بات چیت کی۔ طلباء نے بتایا کہ یونیورسٹی کا چانسلر انہیں روندتے ہوئے گذر گیا جس کے نتیجے میں متعدد طلباء زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے واقعے کی ایک فوٹیج سوشل میڈیا کی ویب سائیٹس پر بھی پوسٹ کی ہے۔