.

بغداد : العبادی کے گھر پر دھاوے کے بعد "ذمے داران کی پراپرٹیز" کا معاملہ گرم ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی دارالحکومت بغداد کے علاقے گرین زون میں سابق وزیراعظم حیدر العبادی کے گھر پر "دھاوے" کی خبروں کے بعد ذمے داران کو "بانٹی" گئی پراپرٹیز کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آ گیا ہے۔

العبادی کے گھر پر دھاوے کی خبر کے حوالے سے دو روایتیں سامنے آئی ہیں۔ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی کے میڈیا بیورو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر کو ان گھروں کی تعداد نہیں معلوم جو حیدر العبادی یا دیگر ذمے داران کے ہاتھوں میں ہیں۔

تاہم بیان میں اُن رہائشی جائیدادوں کے بارے میں معلومات کی تصدیق کی گئی ہے جن کو سابقہ حکومتوں نے عہدے داران میں خلاف قانون تقسیم کیا۔ بیان کے مطابق ایسے بعض افراد ہیں جو ریاست کے اداروں میں کام نہیں کر رہے ہیں مگر ان کے قبضے میں بہت سی پراپرٹیز ہیں۔

اسپیکر الحلبوسی نے اپنے بیان میں باور کرایا کہ عراقی پارلیمنٹ ریاست کی پراپرٹیز کو واپس لینے کے حوالے سے سخت موقف اپنائے گی تا کہ قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم حیدر العبادی کے زیر قیادت النصر گروپ کے ایک رہ نما علی السنید نے پیر کے روز انکشاف کیا تھا کہ موجودہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی سکیورٹی کے ذمے دار نے گرین زون میں العبادی کے گھر پر دھاوا بولا۔ السنید کے مطابق مذکورہ ذمے دار نے العبادی کے گھر پر دھاوے کے بعد لاپروائی کی حرکات کیں۔ السنید نے واضح کیا کہ العبادی کے سکیورٹی اہل کار سابق وزیراعظم کی بعض رہ جانے والی اشیاء کو لینے مذکورہ گھر پر گئے تو انہوں نے گھر کو مقفل پایا۔ مزید برآں وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی سکیورٹی کے اہل کاروں نے ان لوگوں کو گھر میں داخل ہونے سے روک دیا۔

اس سلسلے میں دوسری روایت العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرنے والے ایک ذریعے کی زبانی سامنے آئی جس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ ذریعے کے مطابق وزیراعظم عبدالمہدی کی سکیورٹی فورس نے العبادی کی اہلیہ کو مذکورہ گھر میں یرغمال بنا کر اس کے دروازوں کو تالے لگا دیے۔ العبادی کی اہلیہ ایک گھنٹے بعد وہاں سے کوچ کر گئیں۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ عبدالمہدی کی سکیورٹی کا ذمے دار بریگڈیئر جنرل آزاد جس پر العبادی کے گھر پر دھاوا بولنے کا الزام ہے ،،، وہ انتظامی طور پر اس منصب پر فائز نہیں ہے اور یہ شخص سرکاری دائرہ کار سے ہٹ کر براہ راست وزیراعظم عبدالمہدی کے احکامات پر اپنی کارروائیاں انجام دیتا ہے۔ ذریعے نے واضح کیا کہ بریگیڈیئر جنرل آزاد ہادی العامری کی بدر ملیشیا کا سابق رکن ہے۔

ابھی تک عراقی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس واقعے کی وضاحت کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔