.

حوثیوں کے ہاتھوں خوراک کی لوٹ مار کے ٹھوس شواہد موجود ہیں: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک نے کہا ہے کہ اس کے پاس یمن کےحوثی باغیوں کےہاتھوں جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے بھیجے گئے امدادی سامان کی لوٹ مار کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے یمن کے غریب، پسماندہ اور افلاس زدہ شہریوں کے منہ سے لقمہ چھینا اور امدادی سامان کے ٹرکوں پرقبضے کرتے رہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک نے سوموار کو ایک بیان میں یمن میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے بھیجی جانے والی امدادی اور خوراک کو تحفظ فراہم کرنے، امداد کی مستحق شہریوں تک رسائی کو یقینی بنانے اور صنعاء سمیت ملک کے دوسرے علاقوں میں امدادی سامان کی لوٹ مار کا سلسلہ بند کرانے کا مطالبہ کیا۔

عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے یمن کو بھیجی گئی امداد اور خوراک کی لوٹ مار کی تحقیقات کی ہیں اور بتایا ہے کہ اسے ایسے ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ صنعاء سمیت کئی دوسرے شہروں جہاں ایران نواز حوثیوں کا کنٹرول قائم ہے امدادی سامان مستحق شہریوں تک نہیں پہنچ پایا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی فوڈ پروگرام کی طرف سے خوراک کے ٹرک صنعاء بھیجے گئے اور انہیں حوثی باغیوں نے لوٹ لیا جب کہ بھوک اور افلاس کا شکار عام شہری محروم رہے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ یمن میں قحط ، جنگ اور وبائی امراض کے باعث لاکھوں افراد فوری امداد کے منتظر ہیں۔ یمن کو بھیجی جانے والی امداد جنگجو گروپوں کے ہاتھ چلی جاتے ہے۔ عالمی فوڈ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیزلی کا کہنا ہے کہ خوراک کی لوٹ مار بھوکےلوگوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں باہر سے پہنچنے والی امداد اور خوراک پر حوثی باغیوں کے قبضے کا دعویٰ پہلی بار سامنے نہیں آیا۔ اس سے قبل عرب ممالک اور یمن کی آئینی حکومت بھی بار بار حوثیوں پر شہریوں کے لیے آنے والے امدادی سامان اور خوراک کی لوٹ مار کا الزام عاید کرتے رہےہیں۔