.

عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے سنگین الزامات کے بعد حوثیوں کی نظر "نقدی" پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی حوثیوں کی نام نہاد سپریم انقلابی کونسل کے سربراہ محمد علی الحوثی نے دھمکی دی ہے کہ وہ حوثیوں کی عدالتوں میں عالمی ادارہ خوراک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے ،،، کیوں کہ ادارے نے جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے بھیجے گئے امدادی سامان کی لوٹ مار کے حوالے سے حوثیوں پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت پیش نہیں کیے۔

الحوثی کے مطابق کسی فریق اور شخصیت کا تعین کیے بغیر عمومی الزامات عائد کرنے کا مقصد بدنام کرنا ہے۔ باغی رہ نما نے عالمی ادارہ خوراک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے نمائندے کا نام بتائے تا کہ اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا جا سکے۔

علاوہ ازیں باغی حوثی ملیشیا نے ایک بار پھر اپنا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ امدادی سامان کو "نقد" رقوم سے تبدیل کیا جائے۔ محمد علی الحوثی نے دھمکی دی کہ عالمی ادارہ خوراک کے ساتھ طے شدہ cash mechanismکو تیز نہ کرنے کی صورت میں کسی بھی خلل کی تمام تر ذمے داری عالمی ادارے پر ہو گی۔

اس سے قبل عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے پیر کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ حوثی باغیوں نے یمن کے غریب، پسماندہ اور افلاس زدہ شہریوں کے منہ سے لقمہ چھینا اور امدادی سامان کے ٹرکوں پرقبضے کرتے رہے۔ ادارے نے یمن میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے بھیجی جانے والی امداد اور خوراک کو تحفظ فراہم کرنے، امداد کی مستحق شہریوں تک رسائی کو یقینی بنانے اور صنعاء سمیت ملک کے دوسرے علاقوں میں امدادی سامان کی لوٹ مار کا سلسلہ بند کرانے کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اقوام متحدہ نے 2018 میں یمن میں امداد کی مد میں 4 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔ واضح رہے کہ 1.6 کروڑ یمنیوں کو مطلوبہ مقدار میں خوراک نہیں مل رہی ہے۔

حوثی ملیشیا نے یمن کے مختلف علاقوں میں امدادی سامان پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس میں کچھ حصہ باغی جنگجوؤں میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور دیگر مقدار کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔