.

عراق میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ پر اسرائیل کو تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے عراق میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تل ابیب میں حربی انٹیلی جنس کے سربراہ کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ عراق ایک نئے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو جائے گا جس کو تہران اسرائیل پر حملوں کے واسطے کام میں لائے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بغداد کے مغرب میں واقع "عین الاسد" فوجی اڈے کے اپنے حالیہ دورے کے دوران عراق میں ایرانی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ایسا لگ رہا ہے کہ عراق میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کے حوالے سے بین الاقوامی اور علاقائی اندیشوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

اسرائیل کی حربی انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل تامیر ہائمین نے عراق کی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کا اس بنیاد پر خاص طور سے ذکر کیا کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام فورس کی حیثیت رکھتی ہے۔

رواں سال اگست میں اخباری رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ ایران نے الحشد الشعبی ملیشیا کو مختصر فاصلے کے متعدد بیلسٹک میزائل فراہم کیے۔ اگرچہ بغداد حکومت نے ان خبروں کی تردید کر دی تھی تاہم مذکورہ ملیشیا کی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات یکسر طور پر مخالف تھے۔

اس سلسلے میں اندیشوں کے حوالے سے اسرائیل اکیلا نہیں بلکہ اس کے ساتھ امریکا بھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے صوبے انبار میں اپنے حالیہ دورے میں سیکڑوں امریکی فوجیوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے اس موقع پر خطے میں ایرانی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور باور کرایا کہ عراق میں ان کے ملک کی فورسز نے ایرانی نفوذ پر قریب سے نظر رکھی ہوئی ہے۔