.

ترکی کے مزید ٹینک، توپ خانے اور فوجیوں کی بسیں شام کی سرحد پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے منگل کے روز اپنے جنوبی صوبے شانلی اورفہ میں نئی عسکری کمک پہنچا دی ہے۔ اس کا مقصد شام کی سرحد پر تعینات فوجی یونٹوں کو سپورٹ فراہم کرنا ہے۔

اس نئی کمک میں ٹرکوں پر لدے ٹینکوں اور توپ خانوں کے علاوہ فوجیوں کی بسیں اور ہتھیار اور گولہ بارود شامل ہیں۔ یہ تمام سامان خلیلیہ کے علاقے میں داخل ہوا۔

ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ شام کے شہر منبج سے 15 کلو میٹر دور الساجور کی پٹی پر منبج عسکری کونسل اور انقرہ نواز شامی گروپوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوئیں۔

ادھر ترکی کی فوج اور انقرہ کے حمایت یافتہ شامی اپوزیشن گروپ سرحدی شہر منبج میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔

کرد اور عرب جنجگوؤں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی جانب سے منبج شہر کو سامی حکومت کی فورسز کے حوالے کیے جانے کے باوجود ترکی کی طرف سے شہر میں داخل ہونے کی دھمکیاں سامنے آ رہی ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ داعش تنظیم کو حتمی شکست سے دوچار کرنے کے لیے شام میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے عمل کو "سُست" کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس امر کی تصدیق ٹرمپ کے مقرب ایک سینیٹر لینڈسی گراہم نے اتوار کے روز کی۔

اتوار کی صبح گراہم نے ٹرمپ کے فیصلے کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم دوپہر میں ارب پٹی ریپبلکن ٹرمپ کے ساتھ ظہرانے پر اکٹھا ہونے کے بعد وہ خاصے "مطمئن" ہو کر وہائٹ ہاؤس سے باہر آئے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "صدر نے اس بات کا مصمم ارادہ کیا ہوا ہے کہ جب ہم شام سے کوچ کریں تو داعش تنظیم کمل طور پر شکست سے دوچار ہو چکی ہو"۔

گراہم نے مزید کہا کہ "صدر اس بات حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ ہمیں مشن کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم امور کو ذہانت کے ساتھ سُست بنائیں گے"۔