.

صحافت یمن میں بھیانک خواب بن گئی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی ایک رپورٹ میں گزشتہ سال کے دوران یمن میں آزادی صحافت کی خلاف ورزی کی 144 کارروائیوں کی نشان دہی کی گئی ہے جن میں 12 ہلاکتوں کے واقعات شامل ہیں۔

آزادی صحافت کے نگراں گروپ "مرصدک" کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خلاف ورزیوں میں اغوا اور اقدام اغوا کے 43 کیس، زخمی ہونے کے 11 کیس، اقدام قتل کے 6 کیس، گرفتاریوں کے 16 کیس، زدوکوب کے 10 کیس، کام سے علاحدہ کیے جانے کے 9 کیس، دھمکانے کے 7 کیس، میڈیا سے متعلق افراد کے گھروں پر دھاوے اور لُوٹ مار کے 5 کیس، میڈیا اداروں کے خلاف کارروائیوں کے 12 کیس اور دیگر مختلف خلاف ورزیوں کے 13 کیس شامل ہیں۔

یمن میں صحافیوں کے خلاف مرتکب مجموعی کارروائیوں میں حوثی ملیشیا سرفہرست ہے جس نے گزشتہ سال خلاف ورزیوں کے 84 واقعات کا ارتکاب کیا۔

رپورٹ کے مطابق ان خلاف ورزیوں کا زیادہ بڑا حصہ یمن نواز حوثی باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہوا۔ ان میں دارالحکومت صنعاء سرفہرست ہے۔

مرصدک گروپ کے مطابق صحافیوں کے خلاف کارروائیوں بالخصوص باغی حوثی ملیشیا کی کارستانیوں نے انتہائی سنگین ماحول کو جنم دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یمن میں صحافت کا پیشہ زیادہ خطرناک بن چکا ہے۔ اس صورت حال نے صحافیوں کی پیشہ وارانہ ذمے داریوں کی انجام دہی میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔

رپورٹ نے یمن میں صحافیوں کے لیے صورت حال کو "انتہائی خوف ناک" قرار دیا ہے۔ اس ملک میں ستمبر 2014 میں حوثیوں کی بغاوت اور آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے 2018 کے اواخر تک صحافت اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے 42 افراد قتل ہو چکے ہیں۔ اس دوران 400 سے زیادہ صحافیوں کو اغوا کیا گیا جن میں بعض ابھی تک حوثیوں اور القاعدہ تنظیم کے قید خانوں میں ہیں۔