.

عراق کی منڈیوں میں سعودی عرب سے مات کھا چکے ہیں: ایرانی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق کمیٹی کے سربراہ حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے اعتراف کیا ہے کہ تہران سیاسی اور عسکری طور پر عراق میں کامیاب ہو گیا مگر اقتصادی میدان میں ناکام ہو گیا۔

فلاحت پیشہ نے عراق میں ایرانی نظام کی "منفی" کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کی اس کمزور کارکردگی کے نتیجے میں سعودی عرب اور ترکی نے عراقی منڈیوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "اِرنا" نے منگل کے روز بتایا کہ ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی نے اتوار کے روز عراق اور شام کے ساتھ اقتصادی تعلقات کا جائزہ لیا۔ جائزے کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ بغداد میں ایرانی سامان ناپید ہے جب کہ نجف اور کربلا میں غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے سبب عراقی منڈیوں میں عملی طور پر ایرانی کمپنیوں کا وجود نہیں۔

قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے سربراہ فلاحت پیشہ نے زور دے کر کہا کہ "ایران کے خارجہ تعلقات میں عراق کا ایک اہم کردار اور مقام ہے۔ تزویراتی اور نظریاتی معاملات سے قطع نظر یہ ملک ہمارے لیے اقتصادی، تجارتی اور مذہبی پہلو سے بہت اہمیت رکھتا ہے"۔

یاد رہے کہ ایران میں صںعت و تجارت کی کمیٹی کے سربراہ رضا امیدواور تجریشی نے رواں سال اپریل میں اعلان کیا تھا کہ ایران نے سعودی عرب کے ہاتھوں عراقی منڈی کو کھونا شروع کر دیا ہے ،،، اور عراقی حکام سامان سے لدے ایرانی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت نہیں دے رہے۔ تجریشی نے عراق میں ایران کے عسکری اخراجات پر نکتہ چینی کی جب کہ عراقی اقتصادی منڈی کا منافع سعودی عرب کا نصیب بن رہا ہے۔

عراقی حکومت نے دو سال سے ایران سے درآمد شدہ سامان پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ایران سے عراق بھیجی جانے والے سامان کے حجم میں کمی ہو گئی۔

تجریشی کے مطابق سعودی عرب اور عراق کے درمیان کسٹم ڈیوٹی میں کمی کے حوالے سے معاہدے نے عراقی منڈی میں ایرانی کمپنیوں کی عدم موجودگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

صنعت و تجارت کمیٹی کے سربراہ نے بتایا کہ اس وقت عراق کی سیمنٹ کی ضروریات سعودی عرب پوری کر رہا ہے۔ اس سے قبل یہ کام ایران کر رہا تھا تاہم کسٹم ڈیوٹی میں اضافے کے سبب یہ سلسلہ رک گیا۔