.

کیا ایران میں‌قیدیوں‌کا قاتل عدلیہ کا سربراہ بننے والا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مقرب خاص ابراہیم رئیسی کو سپریم جوڈیشل کونسل کا نیا سربراہ مقرر کرنے کی تیاریاں کی جاری ہیں۔ ابراہیم رئیسی کا ماضی سنگین تنازعات کا شکار رہا ہے اور ان پرسنہ 1988ء کو ایرانی جیلوں میں قیدیوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارنے کی ذمہ دار "ڈیٹھ کمیٹی" کی نگرانی کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ ابراہیم رئیسی پرالزام ہے کہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد جیلوں‌میں ڈالے گئے ہزاروں افراد کے قتل کے ذمہ دار قراردیے جاتے ہیں۔

خبر رساں ادارے"تسنیم" کے مطابق حال ہی میں‌جوڈشیل کونسل کے سربراہ صادق آملی لاری جانی کو گارڈین کونسل کا سربرہ مقرر کیا گیا تھا۔ انہیں جوڈیشل کونسل کی قیادت سے ہٹا دیا گیا تھا۔ جودیشل کونسل کےسربراہ کے خالی ہونے والے عہدے کے لیے ابراہیم رئیسی کا نام لیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے ابراہیم رئیسی سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس کی تردید نہیں کی۔ جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ انہیں جوڈیشل کونسل کا نیا سربراہ مقرر کیا جا رہاہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صادق آملی لاریجانی کو گارڈین کونسل اور ابراہیم رئیسی کو جوڈیشل کونسل کا سربراہ مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر نے ریاست کے تمام اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔ دونوں شخصیات ایران میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور کرپشن میں‌ بدنام ہونے کے باوجود سپریم لیڈر کے چہتی ہیں۔

ابراہیم رئیسی کون؟

ابراہیم رئیسی اس وقت خامنہ ای کے براہ راست حکم سے تین اداروں کی سربراہی کررہے ہیں۔ وہ خبرگان کونسل کے رکن، خصوصی مذہبی عدالت کے ڈپٹی پراسیکیوٹر اور مشہد کے العتبہ الرضویہ کے سادن ہیں۔

ابراہیم رئیسی کو شہرت اس وقت ملی جب وہ 1988ء کو آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قائم کردہ 'ڈیتھ کمیٹی" کا رکن مقرر کیا گیا۔ اس کمیٹی پر سیاسی بنیادوں پر قید کیےگئے دسیوں ہزار قیدیوں کو موت کےگھاٹ اتارے جانےکا الزام عاید کیاجاتا ہے۔

ستاون سالہ ابراہیم رئیسی کو مارچ 2016ء‌کو آستانہ قدس رضوی کا سپر وائز مقرر کیاگیا۔ یہ آستانہ "بنیاد" نامی ایک مذہبی فائونڈیشن کوملنے والے عطیات کی نگرانی کرتی ہے۔ تیل کے سوا ایران کی قومی آمدنی کے 20 فی صد کے برابر اس تنظیم کو فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق"بنیاد" کے اثاثوں کی مالیت 20 ارب ڈالر ہے۔