.

میرے والد کا طبیعی موت سے انتقال نہیں ہوا: فاطمہ رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی صاحبزادی فاطمہ رفسنجانی نے کہا ہے کہ مجھے اس بات کا پورا یقین ہےکہ میرے والد کی موت طبیعی نہیں تھی۔

"جماران" ویب سائیٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں فاطمہ رفسنجانی نے کہا کہ میں نے اپنے والد کے انتقال کےبعد کئی پہلوئوں سے تحقیق کی اور میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا کی موت طبیعی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میرے والد کا انتقال حوض میں‌نہانے سے ہوا۔ حالانکہ ان کے دفتر کے قریب ایسا کوئی حوض نہیں تھا۔

فاطمہ رفسنجانی نے کہا کہ میرے والد کو جس نے بھی قتل کیا وہ دھڑلے کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم جو چاہیں کرسکتے ہیں، ہم کسی سےنہیں ڈرتے۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی خاتون رہ نما نے کہا کہ میرے والد کو قتل کرنے کا منصوبہ پہلے بنایا گیا تھا۔ کئی بار انہیں اور مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔

فاطمہ رفسنجانی نے بتایا کہ میرے والد کی وفات سے پہلے اسی سال نومبرمیں دو نامعلوم افراد میرے دفترمیں آئے اور بتایا کہ ہم محاذ جنگ سے آئے ہیں۔ ہم علی اکبرہاشمی رفسنجانی کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری طرف سے اپنے والد کو یہ پیغام پہنچا دو۔

میں نے اس دھمکی کے بارے میں ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کو مطلع کردیا تھا۔ اس نے کہا کہ 8 جنوری کو ہاشمی رفسنجانی کے انتقال کے لیے یہ کہانی گھڑی گئی کہ رفسنجانی گارڈین کونسل کے دفتر میں ایک تالاب میں نہاتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے۔

رفسنجانی خاندان نے علی اکبر ہاشمی کی وفات کے وقت بھی ان کی فات کے اسباب کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا مگر ایرانی قومی سلامتی کمیٹی نے ان کےخدشات پر کوئی توجہ نہیں دی۔