.

"حراس الدین"شام اورعراق کا نیا عسکری گروپ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران جنگجو گروپ کھنبیوں‌کی طرح اگتے چلے آ رہے ہیں۔ بھانت بھانت کے ان جنگجو گروپوں میں ایک نام "حراس الدین" نے نام سے جانا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس گروپ کا آغاز عراق سے ہوا اور اس میں شام میں النصری فرنٹ اور تحریر الشام کے جنگجوئوں نےشمولیت اختیار کی۔

عراق کی سیکیورٹی فورسز نے اس گروپ کو کچلنے طاقت کا استعمال کیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ گروپ اب بھی عراق کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

عراق کے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حال ہی میں اس گروپ نے "نقش بندی" گروپ میں شمولیت اختیار کی۔نقش بندی گروپ صلاح الدین گورنری کے شمالی علاقوں، طوز ماتور، الشرقات، نینویٰ، کرکوک اور دیالی جیسے علاقوں میں متمرکز ہے۔
"حراس الدین" نامی عسکری گروپ کا نیٹ ورک شام لے شہر ادلب میں بھی موجود ہے۔ ترکی او روس کے درمیان ادلب میں جنگ بندی معاہدے میں شمولیت سے انکار کیا۔

حراس الدین گروپ کو القاعدہ کے سابقہ جنگجوئوں کی بڑی تعداد کی معاونت کے ساتھ ساتھ عراق کی موثر سیاسی قوتوں کی بھی معاونت حاصل رہی ہے۔ بہ ظاہر اس گروپ کا ہدف سنی صوبے کا قیام ہے مگریہ گروپ عراق کے سنی اکثریتی شہروں میں تشددکو ہوا دینا چاہتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق میں "حراس الدین" گروپ کاقیام ملک کے سنی مسلک کے لوگوں کے درمیان جاری محاذ آرائی کا نتیجہ ہے۔ یہ گروپ اپنے اپنے طورپر ملک اپنے علاقوں میں اثرو نفوذ قائم کرنا چاہتےہیں۔

صلاح الدین گورنری، نینویٰ اور کرکوک کی سیاسی قوتیں خفیہ طورپر اس گروپ کی معاونت کررہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حراس الدین اور عراق کے سنی علاقوں کی جماعتوں کے ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ انہیں سیکیورٹی، اقتصادی اور سیاسی حوالےسے اہم خبریں بھی دی جاتی ہیں۔

اسی سیاق میں مبصرین کاکہنا ہے کہ ایسی تحریکوں کا زمین پر زیادہ اثر نہیں پڑتا اور اس کے عناصر سلامتی کے لیے زیادہ خطرہ نہیں ہوتے۔ ان میں موجود غیرملکی عناصر کو مقامی سماج میں آسانی سے کے ساتھ مدغم کرنے کا موقع نہیں ملتا۔