.

مصری صدرانور سادات کی چھوٹی صاحبزادی بھی چل بسیں

ایران سے خوف زدہ کامیلیا سادات نے امریکی شہریت مسترد کردی تھی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھرپور زندگی گذارنے والی کامیلیا 10 جون 1994ء کو پیدا ہوئیں۔انہوں نے قاہرہ کی یونیورسٹی سےگریجوایشن کیا جب کہ ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں امریکا سے حاصل کیں۔ سنہ 1981ء میں انور سادات کے انتقال کے بعد کامیلیا نے امریکا کا سفرکیا اور 28 اکتوبر 2005ء کو واپس مصر آگئیں اور دوبارہ امریکا نہ جانے کا فیصلہ کیا۔

یاسر عرفات کی چھوٹی صاحبزادی اپنے والد سے شکل وشبہات میں کافی حد تک مشابہت رکھتی تھی۔ اس کی عمر ابھی صرف 12 سال تھی جب اس کی شادی ایک فوجی افسر کےساتھ کرادی گئی تھی۔ اس کی شادی میں سابق مصری صدر جمال عبدالناصر اوراس وقت کے آرمی چیف و وزیر دفاع عبدالحکیم عامر نے بھی شرکت کی تھی۔

کامیلیا کی اور مصری فوجی افسر کا ازدواجی تعلق دیر پا ثابت نہ ہوا اور کچھ سالوں کے بعد دونوں میں جدائی ہوگئی۔ جب انور سادات نے داماد سے علاحدگی کا سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ ابھی بچی ہے اور بچوں کی طرح کھیل کود کا تقاضا کرتی ہے۔ نہ کھانا بنا سکتی ہے اور امور خانہ داری میں اسے کوئی دلچسپی ہے۔

طلاق کے چار سال بعد کامیلیا سادات نے مصر میں مقیم ایک شامی انجینیر کے ساتھ ازدواجی تعلق کا آغاز کیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ موصوف اپنے نجی نوعیت کےکاموں کے لیے بھی انور سادات کا نام استعمال کرتےہیں۔ جب معاملہ انور سادات تک پہنچا تو انہیں نے داماد کو طلب کرکے بیٹی کو طلاق دینے کا حکم دیا۔

سنہ 1981ء کو کامیلیا سادات تحصیل علم کے لیے امریکا روانہ ہوگئیں۔ اس دور میں مصر کے صدر انور سادات اور سابق ایرانی بادشاہ کےدرمیان اچھے تعلقات رہے تھے اور ایرانی بادشاہ انور سادات کی دعوت پر مصر کا دورہ کرچکے۔ جب کامیلیا امریکا گئیں تو ایران میں حالت بدل چکے تھے اور امریکا میں موجود ایرانی مصر کےانور سادات کےساتھ بھی نفرت کرتے تھے۔ کامیلیا کو بھی امریکا میں موجود ایرانیوں کےہاتھوں زک پہنچنے کا ڈر تھا اور اس نے خود کو ایرانیوں سے چھپانے کے لیے اپنا نام اور شناخت تبدیل کرلی۔ کامیلیا نے اپنا نام تبدیل کرنے کی بات اپنے والد کو بھی بتائی۔ وہ مسکرا دیے اور کہا کہ اگر تم اپنا نام تبدیل بھی کرو تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ تمہاری شکل مجھ سے ملتی ہے اورایرانی تمہیں شکل ہی سے پہچان لیں گے۔ خیر سے طویل بحث ومباحثے کے بعد کامیلیا نے امریکا میں اپنا نام تبدیل کرکے کامیلیا انور محمد انور رکھ دیا۔

کامیلیا ابھی امریکا ہی میں تھیں کہ اس کے والد انور سادات دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔ امریکی حکومت نے کامیلیا کو امریکا کی شہریت کی پیش کش کی مگر اس نے مصر سے محبت کی بناء پر امریکی شہریت لینے سے انکار کردیا۔ وہ امریکا میں 24 سال تک مقیم رہیں جہاں سے اس نے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔

سنہ 2004ء میں مصر واپسی کے بعد کامیلیا نے انور سادات مرکز برائے امن کی بنیاد رکھی۔ جنوری 2011ء کے مصری انقلاب کے دوران کامیلیا نے صدر حسنی مبارک کی حمایت کی۔ بعد ازاں وہ فوج اور صدر عبدالفتاح السیسی کےساتھ کھڑی رہیں۔ انہوں نے اخوان المسلمون پر شدید تنقید کی اور اپنے والد کے قتل میں ملوث ہونے کی وجہ سے شدت تنظیم کی حکومت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

وفات کے وقت کامیلیا مصر میں اپنی رہائش گاہ پراکیلی تھیں۔ ان کے پاس آخری وقت میں صرف دو بلیاں تھیں جب کہ ان کی بیٹی اقبال اپنے خاندان کے ساتھ امریکا چلی گئیں۔ کامیلیا کی ایک قریبی عزیزہ گذشتہ دنوں کامیلیا سے ملنے اور اسے اسپتال لےجانے کے لیے اس کی رہائش گاہ پرگئیں مگر اندر سے دروازہ نہ کھلا۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ تو وہ انتقال کرچکی تھیں۔ اس طرح انور سادات کے خاندان کا آخری چراغ بھی گل ہوگیا اور اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے کئی اسرار رموز بھی دفن ہوگئے۔