.

عراق : الحشد الشعبی ملیشیا کی خفیہ جیلیں ایک بار پھر توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں جمعرات کے روز مقامی میڈیا میں انبار صوبے کے علاقے الرزازہ سے اغوا ہونے والے ایک یرغمال کے آزاد ہونے کی خبریں گردش میں رہیں۔ اس پیش رفت کے بعد سنی اکثریت کے علاقوں میں شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے زیر انتظام خفیہ جیلوں اور اغوا کی کارروائیوں کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ساتھ ہی بقیہ مغویوں کی رہائی کی امید بھی پیدا ہو گئی ہے۔

اس سلسلے میں انبار صوبے میں مقامی حکومت نے بغداد کی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انبار میں اغوا ہونے والے سیکڑوں افراد کے انجام کے بارے میں حقیقت سامنے لانے کے واسطے حرکت میں آئے۔ ان افراد کو انبار صوبے کے داعش تنظیم کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے ہونے والے سکیورٹی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔

انبار صوبے کی کونسل کے رکن عذال عبید الفہداوی کے مطابق الحشد الشعبی ملیشیا کی جانب سے الرزازہ میں 1700 کے قریب افراد کو یرغمال بنایا گیا ،،، ان کے علاوہ 700 دیگر افراد انبار صوبے کے ہی شہر فلوجہ کے شمال مغرب میں واقع علاقے الصقلاویہ سے گرفتار کیے گئے۔

الفہداوی نے انکشاف کیا کہ چند روز قبل 4 مغویوں کو آزاد کر دیا گیا۔ اس سے مرکزی حکومت کے اداروں کی جانب سے صوبے میں مغویوں کی موجودگی سے انکار ،،، غلط ثابت ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مغوی افراد ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے رمادی، ہیت، عانہ اور الکرمہ کے علاقوں میں داعش تنظیم کے خلاف عراقی سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران 2015 اور 2016 کے درمیان نقل مکانی کی۔ الفہداوی کے مطابق انبار صوبے کے شہر الصقلاویہ میں سکیورٹی فورسز کے داخل ہونے اور داعش سے آزاد کرانے کے دوران مقامی لوگوں میں سے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ الرزازہ کے مغویوں کا معاملہ اُن جرائم پر بھرپور روشنی ڈالتا ہے جن کا ارتکاب شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی نے انبار صوبے کو آزاد کرانے کے معرکے کے دوران کیا۔

ادھر انبار صوبے کی کونسل میں سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ نعیم الکود نے جمعرات کے روز کہا کہ الرزازہ پر کنٹرول کے دوران لاپتہ ہونے یا یرغمال بنائے جانے والے لوگوں میں سے بہت سے افراد بے قصور ہیں ،،، اور ایسے کوئی شواہد نہیں جو ان افراد کا کسی طور بھی داعش تنظیم سے تعلق یا اس کا ہمدرد ہونا ثابت کرتے ہوں۔ الکود نے مغویوں کے اہل خانہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے تنقید کی جس میں بلیک میلنگ اور استحصال شامل ہے۔

دوسری جانب انبار صوبے کی کونسل میں سکیورٹی کمیٹی کے ایک رکن ابراہیم الفہداوی نے کہا کہ الرزازہ اور الصقلاویہ کے گرفتار شدگان کی رہائی کے بارے میں زیر گردش خبریں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہ سوشل میڈیا نے یہ خبریں پہنچائیں اور بعض سیاست دانوں نے محض توجہ حاصل کرنے کے لیے انہیں پھیلا دیا۔

واضح رہے کہ انبار صوبے سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اور البناء سیاسی اتحاد کے ایک رکن الکربولی نے اپنی ایک ٹویٹ میں انکشاف کیا تھا کہ "الرزازہ سے غائب ہونے والے افراد کی رہائی کے بعد الصقلاویہ سے غائب افراد کی آزادی کا عمل انجام پائے گا"۔ الکربولی نے مطالبہ کیا تھا کہ سیاسی صورت حال پر بولیاں لگانے والے عناصر انہیں مغوی افراد کی گھروں کو واپسی کے لیے کام کرنے دیں۔

الفہداوی کے مطابق سابق وزیراعظم حیدر العبادی کے وقت میں بنائی گئی کمیٹی نے لاپتا افراد کے حوالے سے اپنی رپورٹ تیار کر لی تھی تاہم نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے واضح کیا تھا کہ وہ جن نتائج تک پہنچی ہے وہ ابھی تک خفیہ ہیں۔

یاد رہے کہ الرزازہ اور الصقلاویہ کے مغویوں کا واقعہ ایک وڈیو کلپ کے وائرل ہونے کے بعد نئے سرے سے توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ وڈیو میں ایک عمر رسیدہ شخص یہ دعوی کر رہا ہے کہ وہ ایک سکیورٹی مرکز میں یرغمال افراد کی بڑی تعداد میں سے رہا ہو کر آیا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران صالح العلوانی عُرف ابو مہدی نے بتایا کہ اسے فلوجہ شہر کے جنوب میں الرزازہ کی سکیورٹی چیک پوسٹ پر سے گزرنے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔ اپنی آزادی کے حوالے سے العلوانی نے بتایا کہ گزشتہ چند روز میں اس بات سے آگاہ کیا گیا تھا کہ تمام مغویوں کو رہا کر دیا جائے گا اور اس سے قبل یہ معلومات موصول ہوئیں کہ اس موضوع کے حوالے سے عراقی فوج کی انٹیلی جنس کے ساتھ مفاہمت ہو گئی ہے۔