.

ایران : بہائی مذہب کے 9 افراد کی جیل کی سزا کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں عدلیہ کے ذرائع نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ اصفہان میں اپیل کورٹ نے بہائی مذہب اختیار کرنے والے 9 ایرانیوں کی قید کی سزا سے متعلق ابتدائی عدالتی فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔ ان افراد کو مختلف مدت کی قید کی سزا سنائی گئی تھی جن کا مجموعی عرصہ 16 برس ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق نو میں سے پانچ افراد کو چھ برس قید کی سزا دی گئی۔ ان کے نام افشين بلبلان، سہام آرمين، ميلاد داوردان، فرہنگ صہبا اور انوش رائنہ ہیں۔ ان کے علاوہ تین افراد بہاره زيني (سبحانيان)، فوجان رشيدی اور سبيده روحانی کو چار سال قید کی سزا دی گئی جب کہ علی ثانی نامی شخص کو چھ برس قید کی سزا دی گئی۔

ان تمام افراد پر ایسے بہائی گروپوں سے تعلق کا الزام ہے جو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائے گئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق ایرانی سکیورٹی اداروں نے گزشتہ برس موسم خزاں سے ایران کے مختلف شہروں میں بہائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ ان شہروں میں تہران، تبریز، کرج، قائم شہر اور ساری کے علاوہ خوزستان صوبہ شامل ہے۔ اس صوبے میں بہائی مذہب کے پیروکاروں کے بہت سے مراکز کو بند کر دیا گیا۔

ایرانی نظام بہائی عقائد اور نظریات کو "مذہب" شمار نہیں کرتا اور نہ بہائیوں کو مذہبی اقلیت تسلیم کیا جاتا ہے۔ بہائی کارکنان بارہا یہ باور کراتے رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں ان کے شہری اور قانونی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ ان میں تعلیم اور سیاست میں شرکت کے علاوہ تجارت اور کاروبار کرنے کا حق شامل ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اس بات کی بہت زیادہ نشان دہی کی جاتی ہے کہ ایران میں موجود مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی سنگیں خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ ان اقلیتوں میں اہل سنت (سنّی) سرفہرست ہیں جن کے گرد گھیرا اس حد تک تنگ کر دیا گیا ہے کہ دارالحکومت تہران میں بیس لاکھ سنیوں کے ہونے کے باوجود شہر میں ان کی کوئی ایک مسجد بھی نہیں۔

مجموعی طور پر ایران میں بہت سی مذہبی اقلیتوں کو شکایت ہے کہ "ولایت فقیہ" کے نظام کی روشنی میں وہ آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات انجام نہیں دے سکتے اور ان کے ساتھ منصفانہ عدالتی کارروائیوں کا معاملہ نہیں کیا جاتا۔