.

ایران خطے میں مداخلت اور اندرون ملک مزید سختی کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ذرائع ابلاغ نے پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے خطے میں مداخلت اور اندرون ملک عوام پر مزید سختی کرنے کے اعلان کیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ محمد علی جعفری کے بیان کو تہران کی داخلہ اور خطے کے حوالے سے پالیسی میں جوہری تبدیلی پر محمول کیا ہے۔ ایرانی رجیم اپنی بقاء کے لیے مسلسل 'دفاعی جنگ' کا دعویٰ کرتی ہے اور 'اندرونی اور بیرونی مجرموں' کے خلاف مزید سخت اقدامات کے اعلانات کرتی رہی ہے۔

جزیرہ قشم میں دفاعی فوجی مشقوں کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اسٹریٹجی دفاعی رہی ہے مگر اب لگتا ہے کہ ہمیں دشمن کے خلاف پیشگی حملے اور اس کے تعاقب کی حکمت عملی کو اپنانا ہوگا۔

مشقوں کے دوران بری فوج کے سربراہ جنرل محمد باکبور نے کہا کہ ایران کی عسکری حکمت عملی میں اہم تبدیلی لائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'بہترین دفاع ایک موثر جارحیت میں پنہا ہے'۔

پاسداران انقلاب کے عہدیداروں کاکہنا تھا کہ ایران کے 'دشمن' دو طرح کے ہیں۔ ایک داخلی دشمن اور دوسرا خارجی دشمن ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی نئی عسکریی پالیسی دراصل خطے کے ممالک کے میں مداخلت بڑھانا اور اندرون ملک عوام پر سختیوں‌ میں‌ اضافہ کرنا ہے۔

ایرانی عسکری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہمیں دشمن پر پیشگی حملے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ دشمن اگر ایرانی رجیم کے خلاف غلط اقدام کا ارادہ بھی کرے تو ہمیں اس کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

علاقائی سطح پر ایران یمن میں حوثی ملیشیا، لبنان کی حزب اللہ اور عراق کی کئی عسکری ملیشیائون کی مالی، عسکری اور لاجسٹک مدد کرتا چلا آ رہا ہے۔

ایران پر افغانستان میں‌ تحریک طالبان کے جنگجوئوں کو تربیت دینے اور انہیں اسلحہ فرام کرنے کے ساتھ ساتھ کردستان میں بمباری کا بھی الزام عاید کیا جاتا ہے۔