.

ترک پولیس کے ملک بھر میں‌ چھاپے، گولن گروپ کے مزید 140 عناصر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی پولیس نے سنہ 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے مبینہ ماسٹر مائنڈ اور جلا وطن رہ نما فتح اللہ گولن کی جماعت کے خلاف تازہ کریک‌ ڈائون کیا ہے جس میں کم سے کم 140 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ترک پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ استنبول، قونیا اور انقرہ میں 137 مشتبہ باغیوں کو حراست میں لینے کا حکم دیا گیا گیا تھا۔ پولیس نے پراسیکیوٹر جنرل کے احکامات کے مطابق امریکا میں مقیم مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں ڈیڑھ سو کے قریب افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ انقرہ حکومت 15 جولائی 2016ء کو فوج کے ایک گروپ کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے پیچھے فتح اللہ گولن کی سازش کا الزام عاید کرتی ہے مگر فتح اللہ گولن اس الزام کی سختی سے تردید کرتے آئے ہیں۔

گذشتہ روز ترکی کے30 اضلاع میں چھاپے مارے گئے اور 35 فوجی افسروں اور اہلکاروں سمیت درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں 10 فوجی افسر نیوی کے حاضر سروس ہیں۔

سال 2016ء کے وسط سے اب تک ترک حکومت گولن نیٹ ورک سے تعلق کے الزام میں ایک لاکھ سے زاید افراد کو حراست میں لے چکی ہے جبکہ لاکھوں افراد کو ملازمت سے نکالا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور مغرب کی طرف سے مسلسل تنقید کے باوجود انقرہ کا گولن نیٹ ورک کے خلاف کریک‌ ڈائون جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران کریک ڈائون اور گرفتاریوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ فتح اللہ گولن ایک 'وباء' ہے اور اس سے نجات پانے کے لیے مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔