.

سعودی عرب میں "صنفِ نازک" کی سفاری خصوصی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی حصے میں جواثا کے جنگل سے متصل علاقے میں سعودی نوجوان خواتین اپنی فور وہیل ڈرائیو گاڑیوں میں سوار ہو کر خشکی پر سفاری سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔ یہ قدیم مقام الاحساء ضلع میں تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی پوسٹ کردہ وڈیو میں سعودی خاتون زینب الصالح ریت کے ٹیلوں اور موسم سرما کے صحرائی پودوں سے بھری چٹانوں کے بیچ دلیری اور مہارت کے ساتھ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ فور وہیل ڈرائیو گاڑی چلاتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ یہ سرگرمی جواثا شہر میں الاحساء سفاری فیسٹول کے سلسلے میں تھی۔

زینب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں صحراء اور خشکی کے اسفار سے عشق ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ "مجھے بچپن سے ہی مہم جوئی اور چیلنجز پسند ہیں۔ جب میں نے گاڑی چلانا سیکھی اور لائسنس حاصل کر لیا تو میرے اندر پہاڑوں اور ریت کے ٹیلوں کے بیچ گاڑی چلانے کا شوق جاگ گیا جہاں نہ ٹریفک سگنل اور نہ کوئی چوراہے ہوتے ہیں۔ بس میں صحراء میں ریت کو اڑاتی چیلنجوں کو سر کرتی پھر رہی ہوں"۔

زینب نے مزید بتایا کہ "ریت کے درمیان گاڑی چلانا شہروں کے اندر گاڑی چلانے سے کہیں زیادہ دشوار ہے۔ اس کے لیے تکنیکی مہارت اور دماغی ہوشیاری کے علاوہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے یہاں تک کہ آپ ریت پر گاڑی چلانے میں مہارت حاصل کر لیں"۔

سفاری فیسٹول م یں شریک زینب کی سہیلی عبیر آل صفوان کا کہنا ہے کہ "میں نے سعودی عرب سے باہر اپنی تعلیم کے دوران گاڑی چلانا سیکھی۔ مملکت میں اجازت ملنے پر میں نے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر لیا۔ میں نے ریت کے ٹیلوں پر گاڑی چلانا سیکھ لیا جس میں مجھے بے پناہ لطف آتا ہے۔ یقینا ایک عورت کا ریت پر فور وہیل ڈرائیو گاڑی چلانا اور تقریبا 40 کلومیٹر پھیلے صحرائی علاقے میں مہم جوئی انجام دینا ،،، یہ مہارت اور مکمل عبور کا متقاضی ہے۔ اس میں بعض مرتبہ خواتین کے صبر اور تحمل کا بھی امتحان ہوتا ہے"۔

یاد رہے کہ الاحساء سفاری فیسٹول میں مختلف نوعیت کی سرگرمیاں اور پروگرام دیکھنے میں آئے جن کا تعلق قدیم ورثے سے ہے۔ فیسٹول میں آنے والوں کی ایک بڑی تعداد ریکارڈ کی گئی۔ یہ پیش رفت الاحساء کے 2019 کے لیے عرب سیاحتی دارالحکومت کے طور پر اندراج کو سپورٹ کرنے کے سلسلے میں مدد گار ثابت ہو گی۔q