.

تصاویر میں تحریک آزادی زندہ رکھنے والے فلسطینی فوٹو گرافر کی کہانی!

یوسف القطب نے میدان کار زار میں نصف ملین تصاویر کیسے بنائیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوسف القطب کا شمار فلسطین کے عسکری فوٹوگرافروں میں ہوتا ہے جنہوں‌نے اپنے کیمرے کو فلسطینی قوم کی جدو جہد آزادی کے واقعات کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا اور قریبا نصف ملین تصاویر کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔

سفیروں نے سفارتی، سیاست دانوں نے سیاسی، مزاحمت کاروں نے میدان جنگ میں تحریک آزادی فلسطین کو زندہ رکھا جب کہ یوسف القطب نے قضیہ فلسطین کو زندہ رکھنے کے لیے مصوری کا میدان چنا۔

رام اللہ کے نواحی علاقے میں واقع یوسف کےگھر کے درو دیوار اس کے فن کی عکاسی ہی نہیں جدو جہد آزادی فلسطین کی ترجمانی کرتے ہیں۔ دیواروں پر کوئی جگہ ایسی جہاں کوئی ایسی تصویر نہ ہو جو فلسطین کی تحریک آزادی کی علامت نہ ہو۔ ان کی بیشتر تصاویر میں لبنان میں موجود فلسطینی مزاحمتی کارروائیوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں تاریخی ارض فلسطین میں مجاھدین کی عسکری کارروائیوں کی تصاویر ہیں۔اس کے علاوہ جنوبی لبنان میں لبنانی فوج اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی لڑائیوں پر مشتمل ہیں۔ بیروت پر سنہ 1982ء کو اسرائیلی فوج کی چڑھائی اوربیروت کے محاصرے سے لے کر صبروا شاتیلا میں صہیونی فوج کی درندگی اور تنظیم آزادی فلسطین لبنان سے اخراج سے تیونس میں سرگرمیوں تک کی ان گنت تصاویر یوسف القطب کا سرمایہ ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ"سے بات کرتے ہوئے یوسف القطب نے بتایا کہ وہ سنہ 1968ء میں فلسطین کے انقلابی جنگجوئون میں شامل ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں ابھی کم عمر تھا جب میں نے بندق اٹھائی۔ لڑائی کی تربیت حاصل کی۔ ہمارا مقصد لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر موجود اسرائیلی فوج کو فدائی حملوں سے نشانہ بنانا تھا۔ میرے پاس ہمیشہ ایک چھوٹا کیمرہ موجود رہتا جس کی مدد سے میں لڑائی اور معرکوں کی تصاویر بناتا اور انہیں یادگار کے طورپر محفوظ کرلیتا۔ ایک بار ایک فارسفورس بم لگنے سے میرا جسم بری طرح جھلس گیا۔ مجھے بیروت کے ای اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہاں میری عیادت کے لیے فیلڈ کمانڈر ماجد ابو شرار بھی آئے۔ انہوں‌نے میرے پاس موجود کیمرہ دیکھا تو اس کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں کہا کہ مجھے تصوریں اچھی لگتی ہیں۔ انہوں نے مجھے جنگ کے ساتھ ساتھ باقاعدہ طورپر فوٹو گرافی کی بھی پیشکش کی۔ وہاں سے میں ملٹری فوٹوگرافر بن گیا۔

سب سے خطرناک تصویر

یوسف القطب نے بتایا کہ فدائی حملوں اور اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران اس کےبہت سے ساتھی۔ یوسف خود بھی کئی بار زخمی ہوا۔اس کا پورا جسم آج بھی زخموں سے چور دکھائی دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سب سے خطرناک تصویر جو اس نے بنائی وہ اسرائیلی فوج کےایک ٹینک کی تھی جسے فلسطینی مجاھدین نے بیروت اور دامور کے درمیان حملہ کرکے نذرآتش کردیا تھا۔ فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی فوج کے کئی ٹینکوں پرحملے کیے تھے اور میری ذمہ داری ان حملوں کے بعد ان ٹینکوں کی تصاویر لینا تھی۔ میں سرحد پر قائم ایک فلسطینی چوکی تک پہنچا جہاں ابو الفواخر نامی ایک جنگجو تعینات تھا۔ جب میں سرحد پر پہنچا تو وہاں موجود مزاحمت کار ابو الفواخر نے مجھے کہا کہ یوسف کدھر کا ارادہ ہے۔ میں نے کہا جلتے ٹینکوں کی تصاویر لینے کا تواس نے مجھے منع کیا اور کہا کہ تم پاگل ہوگئے ہو۔ تم مارے جائو گے۔ کل میں تمہارے جنازے کے ساتھ چل رہا ہوں گا۔ یعنی تم موت کو دعوت دے رہے ہو۔

مگر میں رکا نہیں بلکہ سوختہ ٹینک کے قریب پہنچ گیا۔ میں نے اس کی تین تصاویر بنائیں۔ اس دوران ایک زور داردھماکہ ہوا جس نے مجھے بھی ہوا میں اچھال دیا۔ میری پنڈلی ٹوٹ گئی اور جسم پر کئی گہرے زخم اور بھی آئے۔ میں نے اپنے حواس بحال کرتے ہوئے موٹرسائیکل کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ میں موٹرسائیکل پر وہاں سے فلسطینی چوکی تک پہنچا تو وہ مکمل طورپر تباہ ہوچکی تھی اور اسرائیلی حملے میں ابو الفواخر شہید ہوگئے تھے۔اگلے روز میں ان کے جنازے میں شریک تھا۔ بیروت میں ہماری زندگی ایسے گذرتی تھی۔

پوری زندگی غربت میں کاٹ دی

یوسف القطب کا کہنا ہے کہ کئی غیرملکی خبر رساں اداروں اور تنظیموں نے معرکوں کے دوران لی گئی تصاویر خریدنے کی پیش کش کی۔ میں نے تصاویر فروخت کرنے سے صاف انکار کردیا۔ غیرملکی ادارے مجھے ایک ایک فوٹیج یا تصویر کا 100 سے 500 ڈالر ادا کرنے تک تیار تھے مگر میں نے کوئی تصویر فروخت نہیں کی۔ میں نے پوری زندگی غربت اور تنگ دستی میں کاٹ دی مگر اپنے اس سرمائے کو کسی کو نہیں بیچا۔ میں ان تصاویر کو صہیونی ریاست کے وحشیانہ جرائم کے دستاویزی ثبوت سمجھتا ہوں جن کی دنیا میں کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی۔ جب میں بیروت سے تیونس کے لیے تنظیم آزادی فلسطین کے ساتھ روانہ ہوا تو میرے پاس سوائے ان تصویروں کے اور کچھ نہیں تھا۔

اپنے ایک متوسط درجے کے مکان میں زندگی بسر کرنے الے یوسف القطب کا کہنا ہے کہ میں لوگوں‌کی نظر میں دولت مند نہیں میرے پاس ایسا قیمتی سرمایہ ہے جو کسی اور کے پاس نہیں۔ میرے پاس نصف ملین تصاویر ہیں۔ ہر تصویر ایک کہانی ہے اور پسے ان تصاویر کا نعم البدل نہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میرے پاس ایسا سرمایہ ہے۔