.

کرسمس کے موقع پر مصر میں قبطی چرچ پر حملے کی کوشش ناکام

کلیسا کے نزدیک لاوارث بیگ میں رکھا بم ناکارہ بناتے ہوئے پولیس افسر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ دھماکا خیز مواد ناکارہ بنانے والا مصری افسر قاہرہ کے ایک کلیسا کے قریب بم ناکارہ بناتے ہوئے دھماکا خیز مواد پھٹنے سے ہلاک ہو گیا۔

نامہ نگار احمد عثمان نے بتایا کہ ’’نصر شہر کے ایک کلیسا کے قریب لاوارث بیگ کی اطلاع ملنے پر دھماکا خیز مواد ناکارہ بنانے والے سکواڈ کو طلب کیا گیا، جس میں شامل اہلکاروں نے بیگ میں نصب بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش کی، لیکن دھماکا خیز مواد اس دوران زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ جس چرچ کے باہر لاوارث بیگ میں دھماکا خیز مواد رکھا گیا تھا وہ نصر شہر میں واقع متعدد کلیساوں کے نسبت ایک چھوٹا چرچ تھا۔‘‘

سیکیورٹی ذرائع کے بتایا کہ دھماکا خیز مواد ناکارہ بنانے کی کوشش کے دروان ہونے والے دھماکے میں ایک راہ گیر اور دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

آخری اطلاعات آنے تک کسی تنطیم یا گروپ نے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دھماکا مصر میں قدامت پسند قبطی عیسائیوں کی عید کے چوبیس گھنٹے پہلے ہوا۔ قبطی عیسائی مصر میں موجود مسیحیوں کی ایک بڑی اکثریت ہیں۔ یہ جولیئن کیلنڈر کے مطابق ہر سال 7جنوری کو کرسمس کا تیہوار مناتے ہیں۔ مصری آبادی میں عیسائی کمیونٹی کا تناسب دس فیصد ہے۔