.

امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تجویز دی ہے : علی شمخانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ اُن کے حالیہ دورہ افغانستان کے دوران امریکا کی جانب سے ایران کو مذاکرات کی تجویز دی گئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی اِسنا کے مطابق شمخانی نے یہ بات تہران میں "مغربی ایشیا میں امن کا دفاع" کے نام سے منعقد ایک کانفرنس میں کہی۔ اس دوران انہوں نے اپنے افغانستان کے دورے میں وہاں کے عہدے داران سے ملاقات پر روشنی ڈالی۔ شمخانی کا یہ دورہ افغان طالبان تحریک کے ایک وفد کے تہران کے دورے کے بعد کیا گیا۔

شمخانی نے واضح کیا کہ اس دورے کے دوران امریکا نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ یہ موقف اُن نمائندوں کے ذریعے سامنے آیا جن سے شمخانی نے ملاقات کی تھی۔ ایرانی عہدے دار کے مطابق تہران نے جواب میں امریکا کے سامنے سرنگوں نہ ہونے کی پالیسی اپنائی اور تہران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہونے کا عندیہ بھی نہیں دیا۔

ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری کا کہنا تھا کہ "امریکیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ قابل اعتبار نہیں ،،، یہ ہی امر مذاکرات کی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے"۔

ابھی تک شمخانی کے بیان کے حوالے سے کسی امریکی عہدے دار کا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

گزشتہ برس جولائی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی رہ نماؤں کے ساتھ پیشگی شرائط کے بغیر ملنے کے لیے تیار ہیں تا کہ ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی کے بعد تعلقات کی بہتری کے راستوں کو زیر بحث لایا جا سکے۔ وہائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ "میں (صدر روحانی سمیت) کسی بھی شخص سے ملاقات کروں گا۔ میں ملاقاتوں پر یقین رکھتا ہوں بالخصوص جب کہ جنگ کا خطرہ قائم ہو"۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس مئی میں جوہری معاہدے سے اپنے ملک کی علاحدگی اور ایران پر جوہری پابندیاں دوبارہ سے عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے باور کرایا تھا کہ وہ از سر نو مذاکرات چاہتے ہیں تا کہ تہران کے ساتھ زیادہ بہتر سمجھوتا طے پا سکے۔ اس سمجھوتے میں میزائل کے حوالے سے نکات شامل ہوں۔

ایران کی جانب سے ابھی تک اس موقف کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

امریکی پابندیوں کے دوبارہ عائد ہونے کے بعد ایرانی معیشت پر دباؤ شدید ہو گیا ہے اور ایرانی کرنسی کی قدر میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے۔