تھائی امیگریشن کی سعودی لڑکی کے ساتھ پیش آئے واقعے کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تھائی لینڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ کویت میں اپنے خاندان سے فرار ہو کر بینکاک آنے والی رهف محمد القنون نامی اٹھارہ سالہ سعودی دوشیزہ کے ساتھ اُن کا معاملہ خود مختاری کے ضمن میں آتا ہے ،،، اور اس کا کسی طور بھی سعودی جانب سے کوئی تعلق نہیں۔

امیگریشن آفیسر سوراچت ہیکبرن نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ رهف محمد القنون کو کویتی فضائی کمپنی کے اُسی طیارے سے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے ذریعے وہ بینکاک پہنچی تھی۔ اس لیے کہ سعودی لڑکی کے پاس واپسی کا ٹکٹ نہیں تھا اور نہ تھائی لینڈ میں کسی ہوٹل کی بکنگ تھی جو ملک میں داخلے کے واسطے ضروری ہے۔

عہدے دار نے واضح کیا کہ لڑکی کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے فیصلے سے قبل تھائی لینڈ کے امیگریشن حکام کا سعودی عرب کے کسی سفارتی نمائندے یا تھائی وزارت خارجہ کے ساتھ رابطہ نہیں ہوا۔ اس لیے کہ داخلے کے اقدامات اس امر کے متقاضی نہیں۔

تھائی عہدے دار کے مطابق سعودی لڑکی نے اپنی کہانی میں مبالغہ آرائی سے کام لیا۔ عہدے دار نے بتایا کہ رهف محمد القنون سعودی عرب میں اپنے گھر سے کویت کے راستے فرار ہوئی اور تھائی لینڈ آ گئی۔ تاہم اس کے پاس داخلے کے لیے ضروری دستاویزات نہیں تھیں جس پر تھائی امیگریشن حکام اسے روکنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ ایک معمول کا اقدام ہے جو ہم ہر صورت انجام دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں