.

تھائی امیگریشن کی سعودی لڑکی کے ساتھ پیش آئے واقعے کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تھائی لینڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ کویت میں اپنے خاندان سے فرار ہو کر بینکاک آنے والی رهف محمد القنون نامی اٹھارہ سالہ سعودی دوشیزہ کے ساتھ اُن کا معاملہ خود مختاری کے ضمن میں آتا ہے ،،، اور اس کا کسی طور بھی سعودی جانب سے کوئی تعلق نہیں۔

امیگریشن آفیسر سوراچت ہیکبرن نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ رهف محمد القنون کو کویتی فضائی کمپنی کے اُسی طیارے سے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے ذریعے وہ بینکاک پہنچی تھی۔ اس لیے کہ سعودی لڑکی کے پاس واپسی کا ٹکٹ نہیں تھا اور نہ تھائی لینڈ میں کسی ہوٹل کی بکنگ تھی جو ملک میں داخلے کے واسطے ضروری ہے۔

عہدے دار نے واضح کیا کہ لڑکی کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے فیصلے سے قبل تھائی لینڈ کے امیگریشن حکام کا سعودی عرب کے کسی سفارتی نمائندے یا تھائی وزارت خارجہ کے ساتھ رابطہ نہیں ہوا۔ اس لیے کہ داخلے کے اقدامات اس امر کے متقاضی نہیں۔

تھائی عہدے دار کے مطابق سعودی لڑکی نے اپنی کہانی میں مبالغہ آرائی سے کام لیا۔ عہدے دار نے بتایا کہ رهف محمد القنون سعودی عرب میں اپنے گھر سے کویت کے راستے فرار ہوئی اور تھائی لینڈ آ گئی۔ تاہم اس کے پاس داخلے کے لیے ضروری دستاویزات نہیں تھیں جس پر تھائی امیگریشن حکام اسے روکنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ ایک معمول کا اقدام ہے جو ہم ہر صورت انجام دیتے ہیں۔