.

خلائی پروگرام کی آڑ میں ایران کی جوہری میزائل سسٹم کو فروغ دینے کی کوشش

ایران خلائی پروگرام کی آڑ میں‌ دنیا کو بے وقوف نہیں‌ بنا سکتا:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایک بار پھر ایران کے میزائل پروگرام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےکہا ہے کہ تہران خلائی پروگرام کی آڑ میں جوہری وار ہیڈ لے جانے والے میزائل تیار کررہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام کے حوالے سے اپنا لہجہ مزید سخت کردیا ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کا بین البراعظمی میزائل کے ذریعے مصنوعی سیارہ خلاء میں بھیجنے کا اعلان جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت والےمیزائل تیارکرنا ہے۔

ایران کے خلائی تحقیقاتی ادارے اور ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر جنرل مجبتیٰ سرادقی نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ تہران عن قریب اپنا ایک مصنوعیی سیارہ خلا میں روانہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض تکنیکی وجوہات کی بناء پر مصنوعی سیارے کے خلا میں‌ بھیجنے کا پروگرام موخر کیا گیا مگر اب ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ تہران کا خلاء میں مصنوعی سیارہ بھیجنا ایران کی خلائی ٹیکنالوجی می ترقی کی علامت ہے۔

خبر رساں ایجنسی "ارنا" کے مطابق مسٹر مجبتیٰ سرادقی کاکہنا تھا کہ ایران نے دس سالہ خلائی پروگرام میں سال 2006ء سے 2015ء کے درمیان کئی مصنوعی سیارے خلاء میں بھیجےجو کرہ اراض کے مدار سے 250 کلو میٹر کی دوری پر ہیں۔ یہ مصنوعی سیارہ تین ماہ تک اپنے مقامات پر رہےاور ان کے ذریعے زمین تک اہم معلومات فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرا دس سالہ منصوبہ 2016ء سے 2024ء تک ہوگا جس میں زمین کے مدار سے 500 کلو میٹر کی دوری پر مصنوعی سیارے بھییجے جائیں گے۔

درایں اثناء امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران نے آئندہ تین ماہ کے دوران خلائی پروگرام کی آڑ میں تین مزائل خلاء میں بھیجنے کا پروگرام بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایسی ہی ٹیکنالوجی جوہری وار ہیڈ لے جانےکی صلاحیت والے بین البراعظمی میزائل بنا رہا ہے۔

چند ہفتے قبل ایرانی فضائیہ کے سربراہ علی حاجی زادہ کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایران ماہانہ 30 سے40 میزائل تجربات کررہا ہے۔