.

دوحہ نے خاشقجی کے قتل سے فائدہ اٹھایا : الاخوان کے رکن کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ برس اکتوبر میں سعودی صحافی اور کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے قطر کے ذرائع ابلاغ نے اس معاملے کے حوالے سے کئی غیر مصدقہ خبریں نشر کیں جن کا مقصد سعودی عرب کو نشانہ بنانا تھا۔ اس بات کا اعتراف قطر کے الجزیرہ ٹی وی پر آنے والے ایک مستقل مہمان نے بھی کیا جو برطانیہ میں الاخوان المسلمین کی سرگرمیوں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔

لندن میںInstitute of Islamic Political Thought کے سربراہ اور قطر کی فنڈنگ سے چلنے والے سیٹلائٹ چینل "الحوار" کے مینجمنٹ بورڈ کے رکن نے مذکورہ چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر قطر اور سعودی عرب کے درمیان بحران نہ ہوتا تو الجزیرہ ٹی وی جمال خاشقجی کے معاملے پر توجہ کیوں مرکوز کرتا اور اگر چار عرب ممالک کی جانب سے دوحہ کا بائیکاٹ نہ ہوتا تو میڈیا میں اس معرکہ آرائی کا آغاز نہیں ہوتا۔

یاد رہے کہ الاخوان کی اہم شخصیت شمار ہونے والے التمیمی نے شروع سے ہی بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک (سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر) اور قطر کے درمیان بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے مملکت سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر نکتہ چینی کے واسطے استعمال کیا۔ ساتھ ہی التمیمی نے دوحہ کا بھرپور دفاع کیا جو ان کے چینل کو اور لندن میں التمیمی کے زیر انتظام Institute of Islamic Political Thoughtکو فنڈنگ کرتا ہے۔