.

فلسطینی اتھارٹی نے رفح کی گزر گاہ سے اپنے اہل کاروں کو ہٹا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی نے اپنے ملازمین کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ پٹی اور مصر کے درمیان رفح کی سرحدی گزر گاہ سے ہٹ جائیں تا کہ غزہ پٹی سے باہر نکلنے کا مرکزی راستہ عملی طور پر بند ہو جائے۔

فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز سامنے آنے والا یہ فیصلہ حماس کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کی کارروائیوں کو سبوتاژ کرنے اور اس کے بعض اہل کاروں کو یرغمال بنانے کے جواب میں کیا گیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی میں شہری امور کی جنرل کمیٹی کے مطابق "حماس تنظیم داخلی طور پر انقسام پر عمل پیرا رہی اور ہمارے اہل کاروں کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ بن گئی۔ لہذا ہم نے رفح کی گزرگاہ پر کام کرنے والے فلسطینی اتھارٹی کے تمام ملازمین کو پیر کی صبح سے ہٹا لینے کا فیصلہ کیا ہے"۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مصر کی حکومت حماس کو اس گزر گاہ کے انتظامی امور سنبھالنے کی اجازت دے گی یا نہیں۔ قاہرہ کی جانب سے ابھی تک اس صورت حال پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے ملازمین کو 2017 میں مصر کے توسط سے اسرائیل اور مصر کے ساتھ غزہ پٹی کی سرحدی گزر گاہوں پر بھیجا گیا تھا۔

دوسری جانب حماس تنظیم کے ترجمان فوزی برہوم نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ کے لوگوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا تسلسل اور غزہ پٹی کو وطن سے علاحدہ کرنے اور عوام کے مسائل میں اضافے کے لیے انارکی پھیلانے کی کوشش ہے۔ ترجمان کے مطابق اس طرح کے "نیچ اور سطحی" اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی (صدر محمود عباس) ذہنی دیوالیہ پن کی کس سطح پر پہنچ چکی ہے۔

حماس تنظیم نے محمود عباس پر الزام عائد کیا کہ وہ وطن کی سرزمین کو داؤ پر لگانے اور مسئلہ فلسطین کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ آمرانہ روش کو جنم دے رہے ہیں۔