فلسطینی اتھارٹی نے رفح کی گزر گاہ سے اپنے اہل کاروں کو ہٹا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی اتھارٹی نے اپنے ملازمین کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ پٹی اور مصر کے درمیان رفح کی سرحدی گزر گاہ سے ہٹ جائیں تا کہ غزہ پٹی سے باہر نکلنے کا مرکزی راستہ عملی طور پر بند ہو جائے۔

فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز سامنے آنے والا یہ فیصلہ حماس کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کی کارروائیوں کو سبوتاژ کرنے اور اس کے بعض اہل کاروں کو یرغمال بنانے کے جواب میں کیا گیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی میں شہری امور کی جنرل کمیٹی کے مطابق "حماس تنظیم داخلی طور پر انقسام پر عمل پیرا رہی اور ہمارے اہل کاروں کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ بن گئی۔ لہذا ہم نے رفح کی گزرگاہ پر کام کرنے والے فلسطینی اتھارٹی کے تمام ملازمین کو پیر کی صبح سے ہٹا لینے کا فیصلہ کیا ہے"۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مصر کی حکومت حماس کو اس گزر گاہ کے انتظامی امور سنبھالنے کی اجازت دے گی یا نہیں۔ قاہرہ کی جانب سے ابھی تک اس صورت حال پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے ملازمین کو 2017 میں مصر کے توسط سے اسرائیل اور مصر کے ساتھ غزہ پٹی کی سرحدی گزر گاہوں پر بھیجا گیا تھا۔

دوسری جانب حماس تنظیم کے ترجمان فوزی برہوم نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ کے لوگوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا تسلسل اور غزہ پٹی کو وطن سے علاحدہ کرنے اور عوام کے مسائل میں اضافے کے لیے انارکی پھیلانے کی کوشش ہے۔ ترجمان کے مطابق اس طرح کے "نیچ اور سطحی" اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی (صدر محمود عباس) ذہنی دیوالیہ پن کی کس سطح پر پہنچ چکی ہے۔

حماس تنظیم نے محمود عباس پر الزام عائد کیا کہ وہ وطن کی سرزمین کو داؤ پر لگانے اور مسئلہ فلسطین کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ آمرانہ روش کو جنم دے رہے ہیں۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں