.

قاہرہ کے نزدیک گرجا گھر کو دھماکوں سے بچانے کی کہانی ، مسجد کے امام کی زبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری دارالحکومت قاہرہ کے مشرق میں واقع علاقے ہزبۃ الہجانہ میں مسجد ضياء الحق کے پیش امام سعد عسکر نے ابو سیفین گرجا گھر کو دھماکا خیز مواد سے اڑانے کی کارروائی سے بچانے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے عسکر نے بتایا کہ نماز عشاء کے بعد انہیں نمازیوں نے بتایا کہ مسجد میں ایک اجنبی نوجوان نماز ادا کرنے کے لیے داخل ہوا۔ بعد ازاں اس نے اپنی نماز توڑی اور تیزی کے ساتھ مسجد سے نکل گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دہشت گرد نوجوان نے اپنی نماز توڑی اور وہ عمارت کی چھت پر چلا گیا۔

امام مسجد نے مزید بتایا کہ عمارت میں مقیم افراد نے آگاہ کیا کہ یہ نوجوان مشکوک انداز سے عمارت سے نیچے اترا تھا۔ اس نے چھت پر ایک کالا بیگ چھوڑ دیا تھا۔ بعد ازاں امام مسجد نے چھت پر جا کر یہ کالا بیگ کھول کر دیکھا تو اس کے اندر دھماکا خیز آلات موجود تھے۔

امام مسجد کے مطابق انہوں نے فوری طور پر گرجا گھر کی سکیورٹی پر مامور محافظین کی فورس کو اس امر سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر مسجد کے لاؤڈ اسپیکروں ے اعلان کیا گیا کہ مسجد کی چھت پر دھماکا خیز آلات موجود ہیں اور نزدیکی گھروں میں رہائش پذیر افراد سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر علاقے سے دور چلے جائیں۔

سعد عسکر کا کہنا ہے کہ ان دہشت گردوں کا کسی مذہب یا قوم سے تعلق نہیں ہوتا۔ کسی آسمانی مذہب میں ان افعال کا کوئی وجود نہیں اور نہ ان کا انسانیت سے کوئی تعلق ہے۔ کوئی انسان اپنے انسان بھائی کو قتل کرنے اور اسے خون میں غرق کر دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

ادھر علاقے کے لوگوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مسجد کے اوپر عمارت میں ایک اپارٹمنٹ میں الازہر کے متعدد طلبہ مقیم ہیں۔ انہوں نے عمارت کی چھت سے ایک اجنبی نوجوان کو نیچتے اترتے ہوئے دیکھا تو اس کی شناخت جاننے کے واسطے روک لیا اور چھت پر جانے کی وجہ پوچھی۔ اس پروہ نوجوان ان طلبہ کے ساتھ الجھ پڑا اور پھر تیزی کے ساتھ وہاں سے نکل گیا۔

بعد ازاں ان طلبہ نے چھت پر جا کر کالا بیگ دیکھا تو اس کے اندر دھماکا خیز آلات موجود تھے۔ اس پر طلبہ نے فوری طور پر امام مسجد شیخ سعد عسکر کو تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ یہ روداد سن کر امام مسجد فوری طور پر اس نوجوان کی تلاش میں نکل گئے مگر وہ اسے پانے میں ناکام رہے۔

سکیورٹی فورسز کے موقع پر پہنچنے کے بعد دھماکا خیز آلات سے نمٹنے کے کارروائی کی گئی۔ ان میں سے دو آلات کو ناکارہ بنا دیا گیا جب کہ تیسرا آلہ دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر مصطفی عبید جاں بحق اور ایک دوسرا اہل کار احمد صبحی زخمی ہو گیا۔