.

ایرانی کرنسی کی قدر میں غیر معمولی کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سرکاری خبر رساں ایجنسی (اِرنا) نے اتوار کے روز بتایا کہ مرکزی بینک نے مقامی کرنسی ریال سے چار اصفار (0) حذف کر دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ تجویز امریکی پابندیوں کے اثر سے جنم لینے والے اقتصادی بحران کے نتیجے میں گزشتہ برس کرنسی کی غیر معمولی گراوٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔

مذکورہ ایجنسی نے ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی کے حوالے سے بتایا ہے کہ "بینک نے گزشتہ روز حکومت کو کرنسی سے 4 اصفار حذف کرنے سے متعلق قرار داد پیش کی۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ جلد از جلد اختتام پذیر ہو جائے گا"۔

واضح رہے کہ کرنسی سے 4 اصفار حذف کرنے کی تجاویز 2008ء سے دی جا رہی ہیں۔ تاہم 2018 میں ایرانی ریال کی قدر میں 60% سے زیادہ کمی آنے کی وجہ سے یہ تجویز زور پکڑ گئی۔ اتوار کے روز مارکیٹ میں امریکی ڈالر کا غیر سرکاری نرخ 1.1 لاکھ ایرانی ریال کے قریب تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس مئی میں ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کرتے ہوئے تہران پر دوبارہ سے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ امریکا نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ایرانی معیشت پر "انتہائی دباؤ" ڈالا جائے گا تا کہ تہران کو اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کے حوالے سے زیادہ سخت قیود قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم ایران نے اس امر کو خارج از امکان قرار دیا۔

ایرانی ریال کے کمزور ہونے کے سبب گزشتہ برس ایران کی بیرونی تجارت اضطراب کا شکار رہی۔ اس امر نے سالانہ افراط زر میں چار گُنا اضافے کے بعد نومبر 2018 میں اسے 40% تک پہنچا دیا تھا۔

کرنسی کی کمزوری اور افراط زر کے عفریت کے نتیجے میں ایران میں 2017 کے اواخر سے وقفے وقفے سے عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

حکومت کی جانب سے منظوری کے بعد کرنسی کا مجوزہ منصوبہ پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پھر شوری نگہبان سے اس پر آمادگی حاصل کی جائے گی تا کہ عمل درامد کو ممکن بنایا جا سکے۔