.

مشرقی شام میں داعش کے حملے، 32 جنگجو جنگ کا ایندھن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں عرب اور کرد جماعتوں کے اتحاد شامی ڈیموکریٹک فورس کے خلاف داعش کے جوابی خونی حملوں میں دسیوں جنگجو مارے گئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی آبزرویٹری کے مطابق اتوار کی شام داعش نےشامی ڈیموکریٹک فورس پر حملہ کیا۔ انتہا پسند تنظیم نے ناموافق موسمی حالات اور ریت کے طوفان کو اپنے حملوں کے لئے بطور ڈھال استعمال کیا، جس میں شامی ڈیموکریٹک فورس کے 23 کے جنگجو کام آئے۔

اس کارروائی میں داعش کے بھی نو جنگجو ہلاک ہوئے۔

ادھر شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم ’’داعش‘‘ نے کرد ملیشیا کے زیر نگین علاقے الرقہ میں ایک فوجی اڈے پر حملہ کر کے متعدد افراد کو ہلاک وزخمی کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ان کرد جماعتوں کو امریکا کی حمایت حاصل ہے۔

کرد سربراہی میں سرگرم شامی ڈیموکریٹک فورس نے بتایا کہ ایک نامعلوم مسلح شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے ایک عام شہری جبکہ کرد ملیشیا کے متعدد جنگجو ہلاک ہو گئے۔

شامی ڈیموکریٹک فورس نے اس امر کی نشاندہی نہیں کی کہ یہ واقعہ کس جگہ رونما ہوا، تاہم الرقہ شہر کے دو باسیوں نے خبر رساں ایجنسی ’’رائیٹرز‘‘ کو بتایا کہ انھوں نے شہر کے وسطی علاقے سے دھماکے کی آواز سنی جہاں پر شامی ڈیموکریٹک فورسز کے دفاتر واقع ہیں۔

انتہا پسند تنظیم کی ترجمان خبر رساں ایجنسی ’’اعماق‘‘ کے ذریعے داعش نے مذکورہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایک بیان میں داعش نے بتایا کہ دھماکا میں تنظیم کے الرقہ میں واقع دفاتر کو ہدف بنایا گیا جس میں 17 افراد کے ہلاک وزخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس سے قبل شامی ڈیموکریٹک فورسز نے بتایا تھا کہ ان کے جنگجووں کی داعش کے ان ارکان سے مدبھڑ ہوئی جو شہر میں ایک پرانی سرنگ عبور کر کے داخل ہوئے۔