ایرانی انقلاب کے بانیوں کی اولاد نے خطرے کے گھنٹی بجا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایرانی سیاست میں حالیہ ہفتوں کے دوران ایک نئی ہل چل دیکھی جا رہی ہے۔ ایران میں جن لوگوں نے ایک نام نہاد اسلامی جمہوری انقلاب برپا کیا آج ان کی اپنی اولاد اس سے نالاں دکھائی دیتی ہے۔

حکومت کے چال چلن سے ایرانی رجیم کے بانیوں کی آول اولاد بھی تنگ ہے اور وہ سب حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنبیہ کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ نظام حکومت کے ممکنہ سقوط سے بھی خبردار کر رہے رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو ایران میں ولایت فقیہ کا اسلامی انقلاب زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں نظام کے بانیوں کی اولاد کافی متحرک دکھائی دیتی ہے اور انہوں نے برسراقتدار طبقے کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے پالیسیاں نہ بدلیں تو ان کے نتیجے میں نظام کا دھڑن تختہ ہوسکتا ہے۔ ایران کے برسراقتدار ٹولے کی داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

گذشتہ ہفتے ایرانی رجیم کے بانی آیت اللہ علی خمینی کے پوتے حسن خمینی نے خبردار کیا کہ ایرانی حکومت کی موجودہ پالیسیاں تباہ ہیں۔ اگر عوام موجودہ نظام سے راضی نہ ہوئے تو یہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔ نظام کی بقام اور تسلسل کے لیے عوام کی خوشنوی حاصل کرنا ضروری ہے۔

"جماران" ویب سائٹ کے مطابق حسن خمینی نے کہا کہ حکومت کی موجودہ پالیسیوں سے عوام میں سخت مایوسی اور غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ حکومت کو ملک کے داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیوں میں اصلاحالات لانا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی رضا مندی اور منشاء کا حصول معاشرے کے وجود، ترقی اور تسلس کی بنیاد ہے۔

حسن خمینی کا کہنا تھا کہ ہمیں عوام کے ساتھ سلوک کے اصولوں کو سمجھنا ہوگا۔ نظام کے قائم رہنے یا اس کے سقوط میں عوام کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ ہم روز مرہ زندگی کے امور میں بھی عوام کی منشاء کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔

حسن خمینی کی طرح سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی صاحبزادی فائزہ ہاشمی رفسنجانی نے حکومت کو شدید کا نشانہ بنایا۔ انہوں‌ نے خبردار کیا کہ حکومت نے تمام شعبوں میں جامع اصلاحات نہ لائیں تو نظام کا دھڑن تختہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے یمن، شام اور دوسرے ملکوں میں ایران کی مداخلت کی پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دوسرے ملکوں میں مداخلت ایرانی نظام کو مضبوط کرنے کے بجائے کم زور کررہی ہے۔

فائزہ ہاشمی رفسنجانی نے ملک کی ابتر معاشی صورت حال کے حوالے سے خبردار کیا اور کہا کہ ایران کو درپیش تمام مشکلات امریکا کی پیدا کردہ نہیں۔ ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی بڑا مسئلہ نہیں بلکہ ایران کی اپنی خارجہ پالیسی بالخصوص یمن اور شام جیسے ملکوں میں مداخلت کی پالیسی زیادہ خطرناک ہے۔

ماضی کے حالیہ برسوں کے دوران ایرانی رجیم پر ملک کی اہم شخصیات کی طرف سے تنقید میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ مرتضیٰ مطہری کا شمار ایران کے اہم فکری رموز میں ہوتا ہے۔ سنہ 2009ء ان کے بیٹے علی مطہری نے عوام مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی۔

اس وقت وہ خود اس نظام کا حصہ اور پارلیمنٹ کے وائس چیئرمین ہیں۔ سخت گیر ہونے کے باوجود انہوں نے ایران میں دھاندلی کے ذریعے احمدی نژاد کو صدر بنائے جانے کی شدید مذمت کی تھی۔ علی مطہری کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے عوام کے خلاف اسی طرح کا رویہ رکھا تو موجودہ نظام بہت جلد ماضی کا قصہ بن جائے گا۔

ایران میں اسلامی انقلاب کرنے والی شخصیات میں مہدی خز علی کا خاندان بھی پیش پیش رہا۔ ان کے آبائو اجداد نے بھی اس میں حصہ ڈالا۔ اس وقت مہدی خز علی بھی ایرانی رجیم کے سخت ناقدین میں سے ہیں۔ انہوں‌نے اپوزیشن رہ نمائوں اور کارکنوں کی ٹارگٹ کلنک کی پالیسی کی شدید مذمت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی رجیم کو جیلوں میں اپوزیشن کو اذیتیں دینے کا کوئی حق نہیں۔ حکومت پرتنقید کرنے والوں میں ان کا بیٹا احمد رضائی اور محسن رضائی بھی پیش پیش رہے۔ احمد رضائی 20 سال قبل امریکا چلے گئے تھے۔ ایرانی رجیم پر تنقید کے حوالے سے ان کے بیانات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں