نبیہ بری کا لبنان میں ہونے والی عرب اقتصادی کانفرنس مؤخر کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان کی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے اس ماہ کے آخر میں ہونے والی عرب اقتصادی کانفرنس کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ لبنان کی سیاسی جماعتیں نئی حکومت کی تشکیل میں ناکام رہی ہیں۔

انھوں نے بدھ کے روز اپنی جماعت کے ایک اجلاس میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ شام کو بھی اس کانفرنس میں شرکت کرنی چاہیے۔

بشارالاسد کے لبنانی اتحادیوں نبیہ بری اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے عرب لیگ کے زیر اہتمام اس کانفرنس میں شام کی شرکت کے لیے مہم شروع کررکھی ہے۔

لبنانی ایوان صدر بیروت میں اس کانفرنس کی میزبانی کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے اور اس نے صحافیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ایکریڈیٹیشن کارڈوں کے لیے بروقت درخواست دیں ۔

واضح رہے کہ عرب لیگ نے سات سال قبل صدر بشارالاسد کی حکومت کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔اب بعض عرب ریاستیں شام کے ساتھ مصالحت کے حق میں ہیں اور وہ اس کی عرب لیگ میں رکنیت کی بحالی چاہتی ہیں۔ ان میں ایک ایسا عرب ملک بھی شامل ہے جو ماضی میں شامی باغیوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھا اور سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے شام کا دورہ کیا تھا۔ وہ 2011ء کے اوائل میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک شروع ہونے کے بعد شام کا دورہ کرنے والے پہلے عرب سربراہ ریاست ہیں۔

شام کی رکنیت کی بحالی کے لیے عرب لیگ کے تمام رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔ مصری وزیر خارجہ سامح الشکری نے منگل کے روز کہا تھا کہ شام کو تنظیم میں واپسی کے لیے بعض اقدامات کرنا ہوں گے اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن مذاکرات میں سیاسی پیش رفت کرنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو ہم پھر اس معاملے پر بات چیت کریں گے لیکن فی الوقت ایسا کچھ بھی نہیں ہورہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں