یمن ۔۔ جنرل کمائرٹ حوثیوں کے راکٹ حملے میں بال بال بچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے اہم بندرگاہی شہر الحدیدہ میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سربراہ ریٹائرڈ ڈچ جنرل پیٹرک کمائرٹ اور مبصر مشن میں یمنی حکومتی ارکان حوثی ملیشیا کے راکٹ حملے میں بال بال بچے۔ باغی ملیشیا نے یہ آرٹیلری حملہ اس وقت کیا جب مبصر مشن کے دفتر میں یمنی حکومتی ارکان کے ساتھ جنرل کمائرٹ اجلاس میں شریک تھے۔ یاد رہے کہ اس اجلاس میں حوثیوں نے شرکت نہیں کی۔

یمن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے اجلاس کی جگہ کے پاس چھ راکٹ داغے۔ سویڈن میں طے پانے معاہدے کی روشنی میں تشکیل پانے والے مشترکہ مبصر مشن کا علاقے میں یہ پہلا اجلاس تھا، جس کا حوثیوں نے بائیکاٹ کر رکھا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے مبصر مشن اجلاس کو نشانہ بنانے کے لئے ہاون ساخت کے متعددد راکٹ فائر کئے۔ ان راکٹوں کی بڑی تعداد اجتماع گاہ کے کمپلیکس میں گری جبکہ چند راکٹ اس مقام سے آگے جا گرے جہاں اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔

مبصر مشن کی مشترکہ کمیٹی میں ’’العربیہ‘‘ ذرائع نے بتایا کہ یمن حکومتی نمائندوں نے جنرل کمائرٹ کو حوثی ملیشیا کی طرف سے الحدیدہ شہر اور بندرگاہ خالی کرنے کے بعد ممکن تعیناتی کا نقشہ راہ پیش کیا۔

ذرائع نے جنرل کمائرٹ کے حوالے سے بتایا کہ ’’حوثی وقت ضائع کر رہے ہیں‘‘ تاہم انھوں نے امکان ظاہر کیا کہ راستے میں موجود رکاوٹیں دور کر لی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حوثیوں سے کمیٹی کے بغیر بدھ کے روز ملاقات کریں گے تاکہ باغیوں کو اسٹاک ہوم میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لئے تیار کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں