.

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے قطر ۔ترکی خفیہ معاہدے کی تفصیلات جاری کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کچھ عرصہ پیشتر خلیجی ریاست قطر اور ترکی کے درمیان ایک خفیہ دفاعی معاہدے کی خبریں ذرائع ابلاغ پر میں شائع ہوئیں۔ اس سمجھوتے کے تحت قطر نے ترکی کو اپنی سرزمین پر ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دی۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو قطر ۔ ترکی خفیہ عسکری سمجھوتے کی تفصلات موصول ہوئی ہیں جنہیں قارئین کی رہ نمائی کے لیے پیش کیاجا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس پراسرا معاہدے کی تفصیلات ایک سویڈش ویب سائیٹ کے ذریعے لیک ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ترکی اور قطر کے درمیان عسکری سمجھوتے کی کئی پراسرار شرائط ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ شرائط دانستہ اور کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ ہیں۔ یہ شرائط ترکی کے سیاسی اغراض ومقاصد اور حکمراں جماعت کی پالیسیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔

پراسرار شرائط

سویڈش ویب سائیٹ"نور ڈیک مانیٹر" کے مطابق اس معاہدے کی ایک شرط یہ ہے کہ قطر اپنی فضاء اور سمندر کو ترکی کے صدر طیب ایردوآن و خلیجی خطے میں اپنے نظریات کی ترویج کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ علاہ ازیں ترک صدر کے ذاتی اور شخصی اھداف مفادات کو یقینی بنانے میں دوحہ مدد فراہم کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود کسی بھی کارروائی میں ترکی اپنی فوج کو بھی استعمال کرسکے گا۔

رپورٹ کے مطابق قطر اور ترکی کے درمیان طے پائےمعاہدے کے کئی خطرناک پہلو ہیں۔ خطے میں کسی بھی کشیدگی کی صورت میں ترکی خواہ مخواہ جنگ میں الجھ سکتا ہے جس کا ترکی کے مفادات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

دونوں‌ ملکوں کے درمیان طے پائے فوجی سمجھوتے میں بات دوطرفہ فوجی مشقوں میں شراکت تک محدود نہیں بلکہ "عملی کارروائی" کی شق شامل کی گئی ہے۔ اس طرح صدر طیب ایردوآن بیرون ملک کسی بھی آپریشن میں فوج بھیج سکتے ہیں۔

ترکی اور قطر کے درمیان یہ دفاعی سمجھوتہ دو سال قبل طے پایا۔ سنہ 2017ء کو ترک پالیمنٹ نے اس کی توثیق اور وسیع کی۔ ترکی نے قطر کے ساتھ دفاعی سمجھوتہ کرکے سعودی عرب ،امارات اور خطے کے دوسرے ممالک کو یہ پیغام دیا تھا کہ انقرہ اپنے اتحادی قطر کے ساتھ کھڑا ہے۔

آرٹیکل چار کیا ہے؟

ترکی اور قطر میں طے پائے دفاعی معاہدے کو "مملکت قطر میں جمہوریہ ترکی کو اپنی مسلح افواج تعینات کرنے کی اجازت" کا عنوان دیا گیا۔ اس معاہدے پر 28اپریل 2016ء کو دوحہ میں دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کا آرٹیکل 4 زیادہ پراسرار ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر طیب ایردوآن کو اپنے ملک کی پارلیمنٹ سے بیرون ملک کسی بھی مشن پر فوج تعینات کرنے کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ ترک صدر ذاتی طورپر قطر میں اپنی فوج کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ کسی بھی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ ایسا کرنا خود ترکی کے اپنے دستور کے خلاف ہے اور ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

معاہدے کی اگلی شق میں قطر میں ترک فوج کی تعیناتی کا مقصد قطری فوج کی دفاعی شعبے میں تربیت، انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت اور دوسرے ممالک میں مشترکہ آپریشنز میں حصہ لینا بتایا گیا ہے۔

نو جون 2017ء کو ترک پارلیمنٹ نے قطر میں ترک فوج کی تعیناتی کی توثیق کی۔ اس توثیق میں قطر میں فوج کی تعیناتی کی مدت کا کوئی تعین نہیں کیا گیا۔ ترک فوج قطر میں کب تک رہے گی اور اس کی تعداد کیا ہوگی۔ یہ سب کچھ صدر طیب ایردوآن پر چھوڑ دیاگیا ہے۔

براہ راست تجدید

معاہدے کے آرٹیکل 17 میں قطر میں ترک فوج کی تعیناتی کا ابتدائی عرصہ 10 سال رکھا گیا ہے۔ یہ عرصہ ختم ہونے کے بعد اس میں پانچ سال کی توسیع کی جاسکتی ہے۔ یہ توسیع بار بار کرنے کے لیے ترکی کو اختیار دیا گیا ہے۔

معاہدے میں یہ واضح نہیں کہ آیا قطر میں کتنی ترک فوج تعینات ہوگی۔ معاہدے میں لکھا گیا ہے کہ ترکی قطر کواپنے دفاع کے لیے جس طرح کی دفاعی ضرورت ہوگی مہیا کرے گا۔ ترکی کی جانب سے قطر کو فضائی، بری اور نیول فورس کے دستے مہیا کیے جائیں گے۔سویڈش ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق قطر اور ترکی کے درمیان طے پایا معاہدہ ان کی دفاعی ضروریات سے زیادہ ان کے خطے میں مشترکہ مقاصد کے تحفظ کے لیے ہونےوالی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔