امریکا شام سے فوجیوں کو واپس بلائے گا،مگر داعش کے خلاف جنگ جاری رکھے گا: پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ شام میں موجود امریکی فوجیوں کو تو واپس بلا لیا جائے گا لیکن وہاں داعش کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو قاہرہ میں مصری وزیرخارجہ سامح الشکری سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں مصر اور دوسرے ممالک کا بدستور اہم شراکت دار رہے گا۔ہم ہر ملک پر زور دیتے ہیں کہ وہ دہشت گرد ی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور ا س کی نظریاتی بنیادوں کی بیخ کنی کے لیے بامقصد اقدامات کرے۔ہماری داعش ، القاعدہ اور دوسری تنظیموں کے خلاف جنگ جاری رہے گی‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ گذشتہ چند روز سے مشرقِ اوسط کے دورے پر ہیں۔وہ بدھ کو قاہرہ پہنچے تھے اور انھوں نے آج مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ان کے اتحادیہ محل میں ملاقات کی ہے۔وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام سے دو ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کے اچانک فیصلے پر اپنے اتحادی ممالک کی تشویش دور کرنے کے لیے یہ دورہ کررہے ہیں۔

انھوں نے اس سے پہلے عراق اور اردن کا دورہ کیا تھا۔انھوں مصری دارالحکومت میں واقع امریکی یونیورسٹی میں خصوصی خطاب کیا ہے۔اس میں انھوں نے امریکا کی مشرقِ اوسط کی پالیسی کے خدوخال بیان کیے ہیں۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکا اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں گرم جوشی آئی ہے۔صدر ٹرمپ اور ان کے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی نے متعدد مواقع پر ایک دوسرے کی تعریف کی ہے۔1980ء کے بعد سے امریکی حکومت نے مصر کو 40 ارب ڈالرز سے زیادہ کی رقم فوجی امداد کی مد میں اور 30 ارب ڈالرز اقتصادی امداد کی شکل میں دیے ہیں۔

مائیک پومییو قاہرہ کے بعد بحرین روانہ ہونے والے ہیں۔اس کے بعد وہ متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب ، قطر ، اومان اور کویت جائیں گے۔گذشتہ سال امریکی محکمہ خارجہ کا قلم دان سنبھالنے کے بعد ان کا یہ طویل غیر ملکی دورہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں