.

امریکا کی جانب سے کوئی ضمانت نہیں ، بشار کے ساتھ حل زیر بحث ہے : کُرد لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں موومنٹ فار ڈیموکریٹک سوسائٹی کے کُرد لیڈر آلدار خلیل نے باور کرایا ہے کہ "کُردوں نے امریکی فوج پر مکمل انحصار نہیں کیا ہے اور واشنگٹن نے انہیں کوئی ضمانت نہیں دی ہے۔ تاہم فریقین کے درمیان رابطہ ابھی موقوف نہیں ہوا"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ "امریکی فورسز ہمارے علاقوں میں داخل ہوئیں تا کہ داعش تنظیم کے خلاف ہمارے شانہ بشانہ لڑیں۔ ہمارے اور امریکی فورسز کے درمیان مشترکہ سمجھوتا اور تعاون ہو چکا ہے تاہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم کلی طور پر ان پر انحصار کر رہے ہیں۔ اگر کردوں کے لیے امریکا کی سپورٹ کا عمل ہوتا ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے۔ اگر امریکی یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں تو یہ ایک ضروری اور اہم امر ہے مگر ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ ہمارا انقلابی تحریک ان کی طاقت سے فتح یاب ہو گی"۔

کرد لیڈر نے واضح کیا کہ "واشنگٹن نے ابھی تک ہمیں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے۔ تاہم بات چیت اور مذاکرات جاری ہیں جن میں ان کی جانب سے مثبت مواقف سامنے آئے ہیں۔ ہماری ان کے ساتھ بھرپور ملاقاتیں اور رابطے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ آنے والے دنوں میں اُن کے مواقف اور فیصلوں میں پیش رفت کا امکان ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ترکی ہمارا خاتمہ چاہتا ہے اور اگر ایک بڑی عالمی قوت ہمارے علاقوں سے چلی گئی تو انقرہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے"۔

خلیل کے نزدیک وہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا استقبال کرنے سے انکار کی وجہ نہیں جانتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہم میڈیا کی باتوں کی بنیاد پر اس کا جائزہ نہیں لے سکتے"۔

خلیل کے مطابق داعش تنظیم کے خلاف کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کی جنگ کوئی "جھوٹ" نہیں۔ انہوں نے کہا کہ "پوری دنیا نے اس جنگ کو دیکھا۔ ہماری مزاحمت اور انقلابی تحریک جاری ہے۔ ترکی کے صدر صرف یہ نہیں کہتے کہ داعش کے خلاف ہماری جنگ ایک جھوٹ ہے بلکہ وہ کرد قوم کے وجود کو بھی جھٹلاتے ہیں۔ بین الاقوامی اتحاد کے تعاون سے داعش کے خلاف ہماری جنگ کئی برسوں سے جاری ہے۔ یہ بات سورج کی طرح روشن اور واضح ہے"۔

خلیل نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ترکی کردوں کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ عثمانی سلطنت کے سقوط کے بعد ترکی کی تاسیس کردوں پر قابو پانے کے بعد عمل میں آئی۔ اس وقت ترکی نے کردوں کے ساتھ ریاست کے قیام کی بات کی تھی مگر ساتھ ہی اس نے کردوں کے خلاف نشل کشی کی خونی مہم جوئی بھی انجام دی۔

کرد لیڈر نے خود مختار انتظامیہ کے بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی تردید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہمارے پاس صرف روڈ میپ ہے جو اس وقت روس کے ساتھ مل کر تیار کیا جا رہا ہے۔ ہم اس بات کے بھی منتظر ہیں کہ روس شامی حکومت کو قائل کرنے کے لیے قدم اٹھائے گی تا کہ شام کا حل سامنے آ سکے"۔

خلیل کے نزدیک "داعش تنظیم پر مکمل کنٹرول ممکن نہیں نظر آتا۔ اس لیے کہ یہ معاملہ عراق اور شام میں تنظیم کے ذیلی گروپوں اور بعض دیگر گروپوں کے ساتھ مربوط ہے۔ انقرہ ان گروپوں کو لوجسٹک اور طبی سپورٹ فراہم کرتا ہے"۔ أنقرة دعماً لوجستياً وطبياً لها".

کرد لیڈر کا کہنا ہے کہ "داعش کے غیر فعّال سیل ہر جگہ موجود ہیں۔ ان کے دارالحکومت اور ریاست پر قابو پالیا گیا ہے مگر اس کا کہ مطلب نہیں کہ تنظیم کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ البتہ کُرد سکیورٹی فورسز نے داعش کے مذکورہ سیلوں پر سنجیدگی کے ساتھ نظر رکھی ہوئی ہے۔ علاقے میں کرد، عرب اور سریانی عوام کرد فورسز کو مکمل معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ہم نے ان لوگوں کے تعاون سے داعش کے ان سیلوں میں خاطر خواہ کمی کو یقینی بنایا ہے"۔