.

امریکی وزیر خارجہ جی سی سی ، مصر اور اردن پر مشتمل تزویراتی اتحاد کے قیام کے لیے پُرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کی رکن ریاستوں، مصر اور اردن پر مشتمل ’’ مشرق ِ اوسط تزویراتی اتحاد ‘‘ کے قیام کے لیے پُرامید ہے۔

انھوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جمعرات کو امریکی یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ٹرمپ انتظامیہ مشرقِ اوسط تزویراتی اتحاد یا ’’میسا‘‘ ( ایم ای ایس اے) کے قیام کے لیے کوشاں ہے تاکہ خطے کو درپیش سنگین خطرات سے نمٹا جاسکے اور توانائی اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔اس کوشش کے تحت خلیج تعاون کونسل ، مصر اور اردن کو اکٹھا کیا جارہا ہے۔آج ہم ان ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ ’میسا‘ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اگلا قدم اٹھائیں‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں مشرقِ اوسط کی دیرینہ مخاصمتوں کے خاتمے کی ضرورت پر زوردیا ہے تاکہ خطے سے ایران کے اثر ورسوخ کو پسپا کیا جاسکے۔انھوں نے شام سے ایرانی بوٹوں کو بے دخل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا :’’ اب وقت آگیا ہے کہ خطے کے عظیم تر مفاد میں سابقہ دشمنیوں کا خاتمہ کیا جائے ۔امریکا شام سے ایرانی بوٹوں کی بے دخلی کے لیے سفارت کاری کو بروئے کار لائے گا ، اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور طویل عرصے سے مصائب جھیلنے والے شامی عوام کو امن واستحکام سے ہم کنار کرنے کے لیے کوششوں کو تیز کرے گا‘‘۔

مائیک پومپیو مشرقِ اوسط کے نوممالک کے دورے پر ہیں اور وہ امریکا کے عرب شراکت داروں کو یہ یقین دہانی کی کوشش کررہے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ خطے کو چھوڑ کر نہیں جارہی ہے۔وہ امریکی صدر ٹرمپ کے شام سے اپنے دو ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کے اچانک اعلان سے پیدا ہونے والے الجھاؤ کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔