.

مشکلات کے باوجود سویڈن معاہدے پر عمل درامد میں پیش رفت ہوئی ہے: گریفتھس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے بدھ کے روز سلامتی کونسل کو بریفنگ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کے دونوں فریقوں نے اسٹاک ہوم معاہدے پر عمل درامد کی پاسداری کا عزم دہرایا ہے۔ گریفتھس کے مطابق معاملے کے دشوار ہونے کے باوجود معاہدے پر عمل درامد میں پیش رفت ہوئی ہے۔

خصوصی ایلچی نے بتایا کہ فریقین نے الحدیدہ میں فائر بندی کی بڑی حد تک پاسداری کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ الحدیدہ میں جذبہ خیر سگالی کے تحت اقوام متحدہ کی ٹیم کے ساتھ کام جاری رکھیں"۔

اسی طرح گریفتھس نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ تعز اور قیدیوں کے حوالے سے جن امور پر اتفاق ہوا ان پر بھی عمل درامد کے واسطے کام کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے ایلچی کے مطابق وہ آئندہ مشاورت کے جلد از جلد انعقاد کے واسطے فریقین کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں انسانی امور کے رابطہ کار مارک لوکوک کا کہنا ہے کہ فائر بندی کے معاہدے کے بعد الحدیدہ کے شہری زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یمن میں ہر جگہ اور ہر وقت بین الاقوامی قانون کا احترام کیا جانا چاہیے۔ لوکوک نے خبردار کیا کہ ایک کروڑ یمنی قحط سالی کے دہانے پر کھڑے ہیں اور آدھی طبی تنصیبات میں کام رک چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں نے یمنی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں انسانی امداد پہنچنے میں رکاوٹیں ڈالیں۔ ہم یمن میں جسمانی تشدد کا شکار افراد کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس یمن میں بچوں کی بھرتی کے تناسب میں 25% اضافہ ہوا۔ سیاسی میدان میں پیش رفت یمنیوں کے لیے انسانی امداد پیش کیے جانے سے بے نیاز نہیں کر سکتی"۔ لوکوک نے باور کرایا کہ یمنی ریال کے لیے سعودی عرب اور امارات کی سپورٹ نے یمن کی معیشت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔

ادھر اقوام متحدہ میں یمن کے مندوب کے مطابق حوثیوں نے الحدیدہ میں فائر بندی کی 434 خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا۔ مندوب نے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں اسٹاک ہوم معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے ۔۔۔ یہ محض انفرادی کارستانیاں نہیں بلکہ اشتعال انگیز پالیسی ہے"۔

یمنی مندوب کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو سویڈن معاہدے پر عمل درامد میں حوثیوں کی ٹال مٹول کا کوئی جواب نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کی شقیں واضح ہیں اور الحدیدہ میں سکیورٹی کی ذمے داری سنبھالنے والے فریق کے حوالے سے کسی شق کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ مندوب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ حوثیوں کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی جائے اور جنگ بندی کو توڑنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔

دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ یمن میں دونوں فریقوں پر لازم ہے کہ وہ امدادی سامان پہنچائے جانے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کریں۔ اقوام متحدہ میں برطانیہ کے مندوب کے مطابق "80% یمنیوں کو ہنگامی بنیادوں پر انسانی امدادات کی ضرورت ہے" اور برطانیہ اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ سویڈن معاہدے پر عمل درامد کے واسطے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی مدت میں توسیع کی جائے۔

جہاں تک روس کے مندوب کا تعلق ہے تو ان کا کہنا ہے کہ سویڈن معاہدہ یمن میں حالات پرسکون بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ،،، اور یمن کے حوالے سے مذاکرات کے نئے دور پر آمادگی اہم ہے۔ روسی مندوب نے یمن میں اقوام متحدہ کے مشن میں توسیع کا خیر مقدم کیا۔