ایرانی عہدیدار طالبان کی ترجمانی بند کریں:افغانستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کی حکومت نے ایرانی عہدیداروں کی جانب سے شدت پسند گروپ طالبان کے حوالے سے بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کو طالبان کی ترجمانی نہیں کرنی چاہیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق افغان ایوان صدر کے ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ایرانی عہدیدار طالبان کی زبان کیوں بول رہے ہیں کیا ایرانی عہدیدار طالبان کے ترجمان بن گئے ہیں۔ افغان ایوان صدر کی طرف سے شدید رد عمل کے بعد ترجمان کا بیان "فیس بک" سے ہٹا دیا تھا۔

خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان کےمستقبل میں طالبان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا مگر خطے کے ممالک اس بات سے متفق ہیں کہ طالبان کو افغانستان میں حکومت کی قیادت نہیں سونپی جانی چاہیے۔

اسی سیاق میں گذشتہ ہفتے کے روز ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عراقجی نے افغانستان کا دورہ کیا اور صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد طالبان کا ایک وفد ایران پہنچا۔ ایرانی حکومت کا کہناہے کہ طالبان کے وفد کی آمد کا مقصد افغانستان میں امن بات چیت کو آگے بڑھانا ہے۔

ایران اور طالبان کو ایک دوسرے کا حریف سمجھا جاتا تھا مگر گذشتہ کچھ عرصے سے دونوں نے اس تاثر کو کافی حد تک زائل کیا ہے۔ طالبان اور ایران کے درمیان پس چلمن رابطے اب اعلانیہ رابطہ کاری میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ کابل میں تعینات ایرانی سفیر محمد رضا بہرامی نے ایک بیان میں تسلیم کیا کہ تحریک طالبان اور ایران کے درمیان برہ راست رابطے 22 مئی 2018ٌٌء کے بعد سے شروع ہوئے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان رابطوں کے باوجود تعلقات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ہم تحریک طالبان کی سیاست کے جواز کے قائل نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں