.

قذافی کا بُھوت لبنان میں اقتصادی عرب سربراہ اجلاس کے لیے خطرہ بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں کئی دنوں سے امل موومنٹ (سیاسی جماعت جس کے سربراہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری ہیں) اور ایوان صدر کے درمیان سیاسی تنازع دیکھا جا رہا ہے۔ اس تنازع نے 19 اور 20 جنوری کو بیروت میں مقررہ اقتصادی و سماجی ترقیاتی عرب سربراہ اجلاس کے سبب جنم لیا۔

شام کو شرکت کی دعوت نہ دیے جانے پر لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے سربراہ اجلاس کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ اب لیبیا کو دعوت دینے کے پس منظر میں ایک نیا اختلاف سامنے آ رہا ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ سربراہ اجلاس منسوخ بھی ہو سکتا ہے۔

امل موومنٹ کی مقرب سپریم اسلامک شیعہ کونسل نے لیبیا کو سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دیے جانے پر احتجاج کے واسطے جمعے کے روز ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ احتجاج کی وجہ یہ ہے کہ لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی پر مذکورہ کونسل کے بانی موسی الصدر کے اغوا کا الزام تھا۔

اجلاس کے بعد کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا کو دی گئی دعوت واپس لی جائے کیوں کہ لیبیا کے حکام نے موسی الصدر اور ان کے دو رفقاء شيخ محمد يعقوب اور صحافی عباس بدر الدين کے معاملے میں اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کیں۔ کونسل کے مطابق لیبیا کے حکام آل قذافی کے مفادات کے ترجمان ہیں اور وہ اپنے بیانات میں لبنان اور اس کے عوام کو ضرر پہنچاتے ہیں ،،، لہذا ملک کی عزّت اور وقار درحقیقت ان لوگوں کو دعوت دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

علاوہ ازیں کونسل نے بتایا کہ اس حوالے سے پیش رفت پر گہری نظر رکھتے ہوئے مناسب موقف اختیار کیا جائے گا۔

امل موومنٹ کے متعدد حامیوں نے دھمکی دی ہے کہ اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے لیبیا کے وفد کے سامنے راستے بند کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاملہ خطرناک نوعیت اختیار کر سکتا ہے جس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر بعض لوگوں کی جانب سے یہ سال اٹھایا جا رہا ہے کہ "الصدر کہاں ہیں؟" ،،، جب کہ بعض لوگوں نے حرکت میں آنے اور راستے بند کر دینے کی دھمکی دی ہے۔

لیبیا کو اقتصادی و سماجی ترقیاتی عرب سربراہ اجلاس کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے کانفرنس میں شرکت کی دعوت عرب لیگ میں طرابلس کے مندوب کے ذریعے موصول ہوئی۔ اس کے بعد شرکت کرنے والے لیبیائی وفد کے ناموں کی فہرست لبنانی حکام کو ارسال کر دی گئی۔ اس امر نے لبنانی شیعہ مذہبی شخصیت موسی الصدر کے حامیوں کو چراغ پا کر دیا۔

لبنان میں شیعہ فرقہ اگست 1978 میں لیبیا کے دورے کے دوران موسی الصدر کے لاپتہ ہو جانے کا ذمے دار معمر قذافی کو ٹھہراتا ہے۔ موسی الصدر اور ان کے دو رفقاء کو اس دورے کی سرکاری طور پر دعوت دی گئی تھی۔ اسی سلسلے میں آج سے 3 سال قبل قذافی کے بیٹے ہنيبعل قذافی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس پر الصدر اور ان کے ساتھیوں کی گمشدگی کے حوالے سے "معلومات چُھپانے" کا الزام تھا۔

اس مقدمے میں لبنان کی عدلیہ 2017 سے میجر عبد السلام جلود اور لیبیا کے انٹیلی جنس سربراہ اور قذافی کے دور کے سابق وزیر خارجہ موسی کوسا کا تعاقب کر رہی ہے۔ ان دونوں شخصیات پر موسی الصدر کے اغوا کی کارروائی میں شرکت کا الزام ہے۔

مبصرین کے نزدیک سربراہ اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے حالیہ اختلاف لبنان میں ایوان صدر اور پارلیمنٹ کی پریذیڈنسی کے درمیان اختلاف کی عکاسی کر رہا ہے۔ لبنانی وزیر انصاف نے عدالتی تفتیش کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان میں قید ہنيبعل قذافی کے معاملے سے مطلع کریں تا کہ اس کی رہائی عمل میں آ سکے۔ وزیر کے مطابق اس رہائی کے واسطے شام اور روس کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔

اس پیش رفت نے امل موومنٹ کو چراغ پا کر دیا ہے۔ ادھر سربراہ اجلاس کے منتظمین نے باور کرایا ہے کہ گزشتہ برس اگست میں اجلاس کی تیاریاں شروع کیے جانے کے وقت پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے لیبیا کو دعوت دینے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔