.

مشرقی شام میں تشدد کے باعث 25 ہزار افراد کی نقل مکانی: یواین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقی شام میں پر تشدد واقعات کے نتیجے میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران کم سے کم 25 ہزار شامی شہری گھر بار چھوڑنے اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

ٌخبر رساں اداروں کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقی شام میں دولت اسلامیہ "داعش" اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ شام کی سرزمین پر داعش کا یہ آخری گڑھ ہے۔

دیر الزور شہر اس کا اہم ترین مرکز ہے جہاں داعش کے جنگجو موجود ہیں۔ اسی علاقے میں سب سے زیادہ پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ اطراف کے بعض مقامات پر امریکا کی حمایت یافتہ کرد پروٹیکشن یونٹ اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے دسمبر 2018ء کے دوران قبضہ کرلیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق دیر الزور اور دوسرے علاقوں میں داعش اور دوسرے جنگجوئوں میں پرتشدد جھڑپوں اور فضائی حملوں میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مشرقی شام سے نقل مکانی کرنے والے شامی شہری بے سروسامانی کی حالت میں روز صحرائوں میں رہے۔ انہیں پانی اور خوراک تک میسر نہیں تھی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مشرقی شام کے بعض علاقے جن میں خاص طورپر ھجین کا علاقہ شامل ہے داعش اور کرد جنگجوئوں‌ کے گھیرے میں ہے۔ وہاں پر دوہزار شامی شہری محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔