ایران میں احتجاج کا شعلہ کسی وقت بھی بھڑک سکتا ہے: مشیر روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر حسن روحانی کے مشیر حسام الدین آشنا نے کہا ہے کہ گذشتہ برس جنوری میں ایران میں ہونے والے عوامی احتجاجی مظاہروں کا مقصد حکومت گرانا تھا مگر ہم نے مظاہرین پر قابو پا کران کا منصوبہ ناکام بنا دیا تھا۔ انہوں‌نے خبردار کیا کہ احتجاج کا شعلہ کسی بھی وقت بھڑک سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے "ایسنا" کو دیے گئے ایک انٹرویومیں حسام الدین آشنا نے جنوریی 2018ء اور 2019ء کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 1990ء کے دوران ایران کے مذہبی اہمیت کے حامل شہروں پربھی لوگ اسی طرح سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی صدر کے مشیر کا کہنا تھا کہ اگرچہ جنوری سنہ 2018ء کے دوران عوامی احتجاج کا پس منظر اقتصادی تھا مگر یہ احتجاج سنہ 1990ء کے دوران ہونے والے مظاہروں کی نسبت زیادہ گہرا تھا جو ایران رجیم کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔

حسام الدین آشنا کاکہناتھا کہ ایران میں اب بھی حالات پرسکون نہیں اور احتجاج کا شعلہ کسی بھی وقت بھڑک سکتا ہے۔

خیال رہےکہ گذشتہ برس کے اوائل میں ایران کے 100 سے زاید شہروں جن میں قم، مشہد اور تہران بھی شامل تھے میں لاکھوں لوگ 'خامنہ ای مردہ باد' کا نعرہ لگاتے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ مظاہرین نے ایرانی رجیم کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج کئی ہفتے تک جاری رہا۔ ایرانی فوج اور پولیس سمیت دیگر اداروں نے طاقت کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں