ایران میں سوشل میڈیا عوام کے لیے حرام، حکمرانوں کے لیے مباح

سوشل میڈیا پر پابندی یا اجازت، ایرانی حکمران طبقے میں اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بین الاقوامی سوشل میڈیا ایرانی رجیم کے گلے کی ہڈی بن کررہ گیا ہے جسے وہ نہ اگل سکتی ہے اور نہ نگل سکتی ہے۔ ایک طرف ایرانی حکمران طبقے میں سوشل میڈیا کواستعمال کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب عوام پر اس کے استعمال پر پابندیاں عاید ہیں۔ اس دوغلی پالیسی کے جلو میں خود ایران کے برسراقتدار اداروں کے درمیان بھی سوشل میڈیا کے حوالے سے محاذ آرائی جاری ہے۔

صدر حسن روحانی اور ان کے حامی سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف ہیں جب کہ رہ برانقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب شدت پسند اور بنیاد پرست نہ صرف سوشل میڈیا پرپابندی عاید کرنے پر زور دے رہے ہیں بلکہ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت چین کی طرز پر اپنا الگ تھلگ انٹرنیٹ سسٹم متعارف کرائے جس میں غیرملکی سوشل میڈیا کا کوئی کردار نہ ہو۔

حال ہی میں ایرانی سپریم کونسل برائے سائبر سیکیورٹی نے "انسٹا گرام" کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی۔ ایران میں وہ سوشل میڈیا کا آخری فورم تھا جس کے استعمال کی عام اجازت حاصل تھی۔ اس سے قبل 'فیس بک' او 'ٹوئٹر'جیسی بڑے سوشل میڈیا سروسز بند کردی گئی تھیں۔

ایرانی حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا پرپابندی کے باوجود لوگ چوری چھپے پراکسی ویب سائیٹس یا "VPN " سروسز کا استعمال کرکے ممنوع سوشل میڈیا کی ویب سائیٹ بالخصوص فیس بک ،ٹوئٹر اور یوٹیوب تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔

ایران کے ٹیلی کمیونیکیشن کے وزیر جواد جھرمی نے عدالت کی طرف سے انسٹا گرام پر پابندی کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہناہے کہ ایران میں 22 لاکھ افراد انسٹا گرام کا استعمال کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے استعمال کی یہ پابندی صرف عام شہریوں‌کے لیے ہے۔ دوسری جانب وزرا اور ارکان پارلیمنٹ سمیت دیگر اعلیٰ ریاستی عہدیدار کھلے عام ان ویب سائیٹس کو استعمال کرے دیکھے جاتے ہیں۔

اس کا اندازہ آپ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے 'ٹوئٹر' اکائونٹ سے لگا سکتے ہیں۔ ان کے انگریزی صفحے پر 5 لاکھ فالورز ہیں جب کہ انسٹا گرام کے فارسی اکائونٹ پر 23 لاکھ فالورز موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں