.

اسرائیلی فوج کا "گنبد صخرہ" کا محاصرہ ، یہودی آباد کاروں کا مسجد اقصی پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس کے اسپیشل یونٹوں نے پیر کی صبح سے مسجد اقصی میں متعدد خواتین اور مرد نمازیوں اور گنبد صخرہ کی مسجد کے کئی پہرے داروں کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ پولیس نے نمازیوں کو نماز ظہر ادا نہیں کرنے دی جب کہ اسی دوران 90 کے قریب یہودی آباد کاروں کو سخت حفاظی اقدامات میں مسجد اقصی پر دھاوا بولنے کی اجازت دے دی گئی۔

بیت المقدس میں فتح موومنٹ نے شہر کے رہنے والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ محصور افراد کی حفاظت اور ان کے گرد محاصرہ توڑنے کے لیے مسجد اقصی کا رخ کریں۔ اس کے بعد مسجد اقصی کے احاطے میں واقع مسجد گنبد صخرہ کے دروازوں کے اطراف نمازیوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور وہاں قابض اسرائیلی فوج پر دباؤ بڑھ گیا۔ اس دوران قابض حکام نے اوقاف کونسل کے سربراہ شیخ عبدالعظیم سلہب، اپیل کورٹ کے سربراہ شیخ واصف البکری اور مسجد صخرہ کے اوقاف کے کئی ذمے داران کو اندر جانے سے روک دیا۔ فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی (WAFA) کے مطابق مسجد اقصی میں ماحول میں انتہائی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

گنبد صخرہ کی مسجد کے پہرے داروں اور نگرانوں نے اسرائیلی پولیس کے ایک اہل کار کو مسجد پر دھاوا بولنے سے روک دیا اور مسجد کے دروازے بند کر دینے پر مجبور ہو گئے۔