.

ایران 2018ء میں عوامی احتجاجی تحریکوں کا سامنا کرنے والے ممالک میں سر فہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران 2018ء کے دوران ان ممالک میں سر فہرست رہا ہے جہاں حکومتوں کے غیر منصفانہ رویے کے خلاف عوام احتجاج پر مجبور ہوئے۔

انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم "آکلیڈ" کی جانب سے جاری کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران گذشتہ برس احتجاج کا سامنا کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر رہا ہے۔

خیال رہے کہ "آکلیڈ" نامی تنظیم دنیا بھر میں جنگ زدہ علاقوں اور سیاسی بے چینی کے شکار ممالک میں شہریوں کے حقوق کے حوالے سے ڈیٹا جمع کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018ء کے دوران ایران میں‌2018ء کے دوران 2251 احتجاجی مظاہرے اور جلوس نکالے گئے جو کہ 2017ٰ ء کی نسبت 284 فیی صد زیادہ ہیں۔ اس طرح ایران کا احتجاج کے حوالے سے شمار پاکستان اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پوری دنیا میں حکومتوں کے خلاف ان کی عوام کے احتجاج میں کمی دیکھی گئی۔ مگر جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں احتجاج کے تناسب میں 33 فی صد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق عوامی احتجاج کا سامنا کرنے والے ممالک میں بھارت پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد پاکستان دوسرے اور ایران تیسرے نمبر رہا ہے۔ 2018ء کے دوران ایران میں عوامی بے چینی میں 284 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس بھارت، پاکستان، ایران اور جنوبی افریقا میں بڑے بڑے عوامی مظاہرے ہوئے۔

حکومتوں کے خلاف عوامی احتجاج کی لہر جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں یکساں رہی۔ بھارت اور پاکستان میں ملک کی مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ۔بھارت میں کسان، طلباء اور مزدوروں نے بھی احتجاجی ریلیاں نکالیں۔