.

حوثیوں کی بارودی سرنگوں سے یمنی شہری محصور ہو گئے ہیں: ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈاکٹروں کی بین الاقوامی فلاحی تنظیم "ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" کے مطابق یمن میں لاکھوں کی تعداد میں دھماکا خیز مواد شہریوں کی زندگیوں کو کئی دہائیوں تک کے لیے خطرے میں ڈال دیں گے۔

تنظیم نے یہ بات " یمن میں لوگ بارودی سرنگوں میں محصور" کے عنوان سے جاری اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے ملک کے مغربی شہر الحدیدہ میں یمنی فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے مقصد سے وہاں راستوں اور کھیتوں میں ہزاروں بارودی سرنگیں اور ہاتھ سے تیار کردہ دھماکا خیز آلات نصب کر دییے ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان خطرات کی لپیٹ میں آنے والے اصل افراد شہریوں کے سوا کوئی اور نہیں جن کو زندگیوں یا جسمانی اعضاء سے محروم ہونا پڑا اور یا پھر جسمانی طور پر اس طرح مسخ ہوئے کہ ساری زندگی اپنی اصل حالت میں واپس نہیں آ سکیں گے۔

رپورٹ نے یمن میں بارودی سرنگوں سے نمٹنے والے مرکز کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ یمنی فوج نے 2016 سے 2018 کے درمیان 3 لاکھ بارودی سرنگوں کو صاف کیا۔

یمن میں کم و بیش کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب حوثیوں کے کنٹرول میں رہنے والے علاقوں میں باغیوں کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے سبب کسی یمنی شہری کے زخمی یا ہلاک ہونے کی خبر نہ آتی ہو۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یمن کے شہروں میں حوثیوں کی کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے۔

بارودی سرنگوں کی اتنی بڑی تعداد شہریوں کی زندگیوں کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ اس خطرے میں حوثی ملیشیا کے دانستہ جنونی پن سے اور اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے تحت وہ بین الاقوامی طور پر ممنوعہ بارودی سرنگوں کو اندھا دھند طریقے سے گھروں ، راستوں اور یہاں تک کہ عام تنصیبات میں بھی نصب کرتی چلی جا رہی ہے۔