اردنی فرمانروا کے استقبال میں فلسطینی پرچم، بغداد حکومت مشکل میں‌ پھنس گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کے دورہ عراق کے دوران بغداد حکومت کو اس وقت سبکی اور پریشانی کاسامنا کرنا پڑا جب دارالحکومت کی سڑکوں پر لگائی گئی اسکریںوں پر غلطی سے اردن کے بجائے فلسطین کے پرچم لہرا دیے گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی حکومت نے کہا ہے کہ اردن کے بجائے فلسطینی پرچم لہرانے کا واقعہ مہمان اردنی فرمانروا کے پروٹوکول کی خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ اس کمپنی کی غلطی ہے جسے بغداد میں مہمانوں کے استقبال کے لیے اسکرینیں نصب کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

خیال رہے کہ شاہ عبداللہ دوم دو روز قبل عراق کے سرکاری دورے پر بغداد پہنچے تھے۔ انہوں نے عراقی حکومت کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے فروغ،انسداد دہشت گردی اور زندگی کے بعض دوسرے شعبوں میں تعاون پر مذاکرات کیے تاہم اس موقع پر عراقی حکومت کو مہمان کے استقبال کے دوران فلسطینی پرچم دکھانے پر شرمندگی بھی تھی۔

اگرچہ بغداد کی شاہرائوں پر جگہ جگہ عراق اور اردنی پرچم لہرائے گئے تھے اور جگہ جگہ بھاری بھرکم اسکرینوں پر دونوں ملکوں کے پرچم اور استقبالیہ کلمات کے سلائیڈ چل رہے تھے۔ اس کے باوجود کئی ایک مقامات پر اردن کے بجائے فلسطینی پرچم دیکھنے کو ملے۔نشاندہی کے بعد متعلقہ حکام نے فورا غلطی ٹھیک کردی مگر تب تک شاہ عبداللہ وہاں سے گذر چکے تھے۔

عراقی حکام کا کہنا تھا کہ شاہ عبداللہ دوم ملاقاتوں‌کے بعد بغداد میں الاعظمیہ قبرستان بھی جائیں گے اور امام ابو حنفیہ کے مزار اور مسجد امام ابو حنیفہ کی بھی زیارت کریں‌ گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں